تحفۂ گولڑویہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 64 of 615

تحفۂ گولڑویہ — Page 64

روحانی خزائن جلد۱۷ ۶۴ ضمیمه تحفہ گولر و به فهل انتم مسلمون ۔ اس میں ایک شہادت سے مراد کسوف شمس ہے اور دوسری شہادت سے مراد خسوف قمر ہے ) اور پھر فرمایا کہ خدا نے قدیم سے لکھ رکھا ہے یعنی مقرر کر رکھا ہے کہ میں اور میرے رسول ہی غالب ہوں گے۔ یعنی گو کسی قسم کا مقابلہ آپڑے جو لوگ خدا کی طرف سے ہیں وہ مغلوب نہیں ہوں گے اور خدا اپنے ارادوں پر غالب ہے مگر اکثر لوگ نہیں سمجھتے ۔ خدا وہی خدا ہے جس نے اپنا رسول ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا تا کہ اس دین کو تمام دینوں پر غالب کرے کوئی نہیں جو خدا کی باتوں کو بدل دے اور وہ لوگ جو ایمان لائے اور اپنے ایمان کو کسی ظلم سے آلودہ نہیں کیا ان کو ہر ایک بلا سے امن ہے اور وہی ہیں جو ہدایت یافتہ ہیں۔ اور ظالموں کے بارے میں مجھ سے کچھ کلام نہ کر وہ تو ایک غرق شدہ قوم ہے اور تجھے ان لوگوں نے ایک ہنسی کی جگہ بنا رکھا ہے اور کہتے ہیں کہ کیا یہی ہے جو خدا نے مبعوث فرمایا اور تیری طرف دیکھتے ہیں اور تو انہیں نظر نہیں آتا۔ اور یاد کر وہ وقت جب تیرے پر ایک شخص اس کلام الہی سے ظاہر ہے کہ تکفیر کرنے والے اور تکذیب کی راہ اختیار کرنے والے ہلاک شدہ قوم ہے اس لئے وہ اس لائق نہیں ہیں کہ میری جماعت میں سے کوئی شخص ان کے پیچھے نماز پڑھے۔ کیا زندہ مردہ کے پیچھے نماز پڑھ سکتا ہے؟ پس یا درکھو کہ جیسا خدا نے مجھے اطلاع دی ہے تمہارے پر حرام ہے اور قطعی حرام ہے کہ کسی مکفر اور مکذب یا متردد کے پیچھے نماز پڑھو بلکہ چاہیے کہ تمہارا وہی امام ہو جو تم میں سے ہو۔ اسی کی طرف حدیث بخاری کے ایک پہلو میں اشارہ ہے که امامکم منکم یعنی جب مسیح نازل ہوگا تو تمہیں دوسرے فرقوں کو جو دعوئی اسلام کرتے ہیں بکی ترک کرنا پڑے گا اور تمہارا امام تم میں سے ہوگا پس تم ایسا ہی کرو ۔ کیا تم چاہتے ہو کہ خدا کا الزام تمہارے سر پر ہو اور تمہارے عمل حبط ہو جائیں اور تمہیں کچھ خبر نہ ہو ۔ جو شخص مجھے دل سے قبول کرتا ہے وہ دل سے اطاعت بھی کرتا ہے اور ہر ایک حال میں مجھے حکم ٹھہراتا ہے اور ہر ایک تنازع کا مجھ سے فیصلہ چاہتا ہے مگر جو شخص مجھے دل سے قبول نہیں کرتا اس میں تم نخوت اور خود پسندی اور خود اختیاری پاؤ گے پس جانو کہ وہ مجھ میں سے نہیں ہے کیونکہ وہ میری باتوں کو جو مجھے خدا سے ملی ہیں عزت سے نہیں دیکھتا اس لئے آسمان پر اس کی عزت نہیں ۔ منہ