تحفۂ گولڑویہ — Page 61
روحانی خزائن جلد۱۷ ۶۱ ضمیمه تحفه گولار و به میں نے اپنے ہاتھ سے تیرا درخت لگایا۔ تیرا بھید میرا بھید ہے اور تو میری درگاہ میں وجیہ ہے۔ میں نے اپنے لئے تجھے چنا۔ تو مجھ سے ایسا ہے جیسا کہ میری توحید اور تفرید ۔ پس وقت آگیا (۱۲) ہے کہ تو مدد دیا جائے اور لوگوں میں تیرے نام کی شہرت دی جائے ۔ اے احمد! تیرے لبوں میں نعمت یعنی حقائق اور معارف جاری ہیں اے احمد! تو برکت دیا گیا اور یہ برکت تیرا ہی حق تھا۔ خدا نے تجھے قرآن سکھلایا یعنی قرآن کے اُن معنوں پر اطلاع دی جن کو لوگ بھول گئے تھے تا کہ تو اُن لوگوں کو ڈراوے جن کے باپ دادے بے خبر گذر گئے اور تا کہ مجرموں پر خدا کی حجت پوری ہو جائے۔ ان کو کہہ دے کہ میں اپنی طرف سے نہیں بلکہ خدا کی وحی اور حکم سے یہ سب باتیں کہتا ہوں اور میں اس زمانہ میں تمام مومنوں میں سے پہلا ہوں ۔ ان کو کہہ دے کہ ☆ اگر تم خدا تعالیٰ سے محبت کرتے ہو تو آؤ میری پیروی کرو تا خدا بھی تم سے محبت کرے۔ سی مقام ہماری جماعت کے لئے سوچنے کا مقام ہے کیونکہ اس میں خدا وند قدیر فرماتا ہے کہ خدا کی محبت اسی سے وابستہ ہے کہ تم کامل طور پر پیرو ہو جاؤ اور تم میں ایک ذرہ مخالفت باقی نہ رہے اور اس جگہ جو میری نسبت کلام الہی میں رسول اور نبی کا لفظ اختیار کیا گیا ہے کہ یہ رسول اور نبی اللہ ہے یہ اطلاق مجاز اور استعارہ کے طور پر ہے کیونکہ جو شخص خدا سے براہ راست وحی پاتا ہے اور یقینی طور پر خدا اس سے مکالمہ کرتا ہے جیسا کہ نبیوں سے کیا اس پر رسول یا نبی کا لفظ بولنا غیر موزوں نہیں ہے بلکہ یہ نہایت فصیح استعارہ ہے ۔ اسی وجہ سے صحیح بخاری اور صحیح مسلم اور انجیل اور دانی ایل اور دوسرے نبیوں کی کتابوں میں بھی جہاں میرا ذکر کیا گیا ہے وہاں میری نسبت نبی کا لفظ بولا گیا ہے اور بعض نبیوں کی کتابوں میں میری نسبت بطور استعارہ فرشتہ کا لفظ آگیا ہے۔ اور دانی ایل نبی نے اپنی کتاب میں میرا نام میکائیل رکھا ہے اور عبرانی میں لفظی معنے میکائیل کے ہیں خدا کی مانند ۔ یہ گویا اس الہام کے مطابق ہے جو براہین احمدیہ میں ہے ۔ انت منی بمنزلة توحیدی | و تـفــريــدى فـحان ان تعان وتعرف بين الناس۔ یعنی تو مجھ سے ایسا قرب رکھتا ہے اور ایسا ہی میں تجھے چاہتا ہوں جیسا کہ اپنی توحید اور تفرید کو سوجیسا کہ میں اپنی توحید کی شہرت چاہتا ہوں ایسا ہی تجھے دنیا میں مشہور کروں گا۔ اور ہر ایک جگہ جو میرا نام جائے گا تیرا نام بھی ساتھ ہو گا۔ منہ منه