تریاق القلوب — Page 535
روحانی خزائن جلد ۱۵ ۵۳۵ تحفه غزنویه مولویوں میں بڑا ماتم پیدا کیا اور محمد حسین نے لکھا کہ یقینا اس شخص کو علم نجوم آتا ہے جس کی پیشگوئی ایسی صفائی سے پوری ہو گئی ۔ مگر احمد بیگ کے داماد اور اس کے والدین اور اقارب نے جب یہ ہولناک نمونہ اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا تو ایسا خوف طاری ہوا که قبل از مردن مُردہ سمجھ لیا گیا اس لئے جیسا کہ انسان کی فطرت میں داخل ہے اس مشاہدہ سے بہت رجوع الی اللہ ان کے دلوں میں پیدا ہوا اور بعض نے مجھ کو خط لکھے کہ تقصیر معاف کریں اور ان کے گھروں میں دن رات ماتم شروع ہوا اور صدقہ خیرات اور نماز روزہ میں لگ گئے اور اس گاؤں کے لوگ عورتوں کا رونا اور چیخنا سنتے رہے غرض وہ تمام زن و مرد خوف سے بھر گئے اور یونس کی قوم کی طرح اُس عذاب کو دیکھ کر (0) تو بہ اور صدقہ اور خیرات میں مشغول ہو گئے ۔ پھر سوچ لو کہ ایسی حالت میں ان کے ساتھ خدا تعالیٰ کا کیا معاملہ ہونا چاہیئے تھا۔ ایسا ہی ڈپٹی آتھم بھی احمد بیگ والے نشان کوسن چکا تھا اور بذریعہ اخبارات اور اشتہارات کے یہ نشان لاکھوں انسانوں میں مشہور ہو چکا تھا اس لئے اس نے بھی پیشگوئی کے سننے کے بعد خوف اور ہر اس کے آثار ظاہر کئے ۔ لہذا پیشگوئی کی شرط کے موافق خدا نے تاخیر دی کیونکہ شرط خدا کا وعدہ تھا اور وہ اپنے وعدہ کے برخلاف نہیں کرتا۔ یہ تمام دنیا کا مانا ہوا مسئلہ اور اہل اسلام اور نصاری اور یہود کا متفق علیہ عقیدہ ہے کہ وعید یعنی عذاب کی پیشگوئی بغیر شرط تو بہ اور استغفار اور خوف کے بھی مل سکتی ہے جیسا کہ یونس نبی کی چالیس دن کی پیشگوئی جس کے ساتھ کوئی شرط نہ تھی مل گئی اور نینوا کے رہنے والے جو ایک لاکھ سے بھی زیادہ تھے ان میں سے ایک بچہ بھی نہ مرا اور یونس نبی اس خیال اور اس ندامت سے کہ میری پیشگوئی جھوٹی نکلی اپنے ملک سے بھاگ گیا ۔ اب سوچو کہ کیا یہ ایمانداری