تریاق القلوب

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 497 of 769

تریاق القلوب — Page 497

روحانی خزائن جلد ۱۵ ۴۹۷ تریاق القلوب کیونکہ کوئی مذہب بغیر نشان کے انسان کو خدا سے نزدیک نہیں کر سکتا اور نہ گناہ سے نفرت دلا سکتا ہے ۔ مذہب مذہب پکارنے میں ہر ایک کی بلند آواز ہے لیکن کبھی ممکن نہیں کہ فی الحقیقت پاک زندگی اور پاک دلی اور خدا ترسی میسر آسکے جب تک کہ انسان مذہب کے آئینہ میں کوئی فوق العادة نظارہ مشاہدہ نہ کرے ۔ نئی زندگی ہر گز حاصل نہیں ہو سکتی جب تک ایک نیا یقین پیدا نہ ہو اور کبھی نیا یقین پیدا نہیں ہو سکتا جب تک موسیٰ اور مسیح اور ابراہیم اور یعقوب اور محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح نئے معجزات نہ دکھائے جائیں ۔ نئی زندگی انہی کو ملتی ہے جن کا خدا نیا ہو یقین نیا ہونشان نئے ہوں اور دوسرے تمام لوگ قصوں کہانیوں کے جال میں گرفتار ہیں دل غافل ہیں اور زبانوں پر خدا کا نام ہے۔ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ زمین کے شور و غوغا تمام قصے اور کہانیاں ہیں اور ہر ایک شخص جو اس وقت کئی سو برس کے بعد اپنے کسی پیغمبر یا اوتار کے ہزار ہا معجزات سناتا ہے وہ خود اپنے دل میں جانتا ہے کہ وہ ایک قصہ بیان کر رہا ہے جس کو نہ اُس نے اور نہ اُس کے باپ نے دیکھا ہے اور نہ اُس کے دادے کو اس کی خبر ہے۔ وہ خود نہیں سمجھ سکتا کہ کہاں تک اس کا یہ بیان صحیح اور درست ہے کیونکہ یہ دنیا کے لوگوں کی عادت ہے کہ ایک تنکے کا پہاڑ بنا دیا کرتے ہیں ۔ اس لئے یہ تمام قصے جو معجزات کے رنگ میں پیش کئے جاتے ہیں ان کا پیش کرنے والا خواہ کوئی مسلمان ہو یا عیسائی ہو جو حضرت عیسی علیہ السلام کو خدا جانتا ہے یا کوئی ہندو ہو جو اپنے اوتاروں کے کرشمے کتابیں اور پستک کھول کر سناتا ہے یہ سب کچھ بیچ اور لاٹھے ہیں اور ایک کوڑی ان کی قیمت نہیں ہو سکتی جب تک کہ کوئی زندہ نمونہ اُن کے ساتھ نہ ہو اور سچا مذ ہب وہی ہے جس کے ساتھ زندہ نمونہ ہے۔ کیا کوئی دل اور کوئی کانشنس اس بات کو قبول کر سکتا ہے کہ ایک مذہب تو سچا ہے مگر اس کی سچائی کی چمکیں اور سچائی کے