تریاق القلوب — Page 454
هو الدله الدله ك روحانی خزائن جلد ۱۵ ، در حاشیه ۴۵۴ تریاق القلور کمر بستہ کر لی کہ ہماری گورنمنٹ محسنہ انگریزی کو ہر وقت یہ خلاف واقعہ خبر دی کہ یہ شخص سرکا را نگریزی کی نسبت اچھے خیالات نہیں رکھتا ۔ چنانچہ ایک مدت تک وہ ایسا ہی کرتا رہا اور اُس نے خلاف واقعہ کئی امور میری نسبت اپنی اشاعة السنه ہر ایک الزام سے پاک ثابت کر دے گا اور تیرے معجزات تازہ کرے گا اور اس پیشگوئی میں یہ بھی اشارہ ہے کہ ہمارے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قتل نہیں ہوں گے اور آپ کا رفع الی السماء اپنی نبوت کے رُو سے آفتاب کی طرح چمکے گا کیونکہ ہزار ہا اولیاء اس اُمت میں پیدا ہوں گے ۔ اور اس پیشگوئی میں صاف لفظوں میں بتلایا گیا ہے کہ حضرت مسیح اُس زمانہ سے پہلے وفات پا جائیں گے جبکہ وہ رسول مقبول ظاہر ہوگا جو مخالفوں کے اعتراضات سے اُن کے دامن کو پاک کرے گا۔ کیونکہ اس آیت کریمہ میں لف نشر مرتب ہے۔ پہلے وفات کا وعدہ ہے پھر رفع کا پھر تطہیر کا اور پھر یہ کہ خدا تعالیٰ اُن کے متبعین کو ہر ایک پہلو سے غلبہ بخش کر مخالفوں کو قیامت تک ذلیل کرتا رہے گا۔ اگر اس ترتیب کا لحاظ نہ رکھا جائے تو اس میں بڑی خرابی یہ ہے کہ وہ ترتیب جو واقعات خارجیہ نے ثابت کر دی ہے ہاتھ سے جاتی رہے گی اور کسی کا اختیار نہیں ہے کہ قرآنی ترتیب کو بغیر کسی قومی دستاویز کے اُٹھا دے کیونکہ ایسا کرنا گویا یہودیوں کے قدم پر قدم رکھنا ہے۔ یہ تو بیچ ہے کہ یہ ضروری نہیں کہ حرف واؤ کے ساتھ ہمیشہ ترتیب کا لحاظ واجب ہو۔ لیکن اس میں کیا شک ہے کہ خدا تعالی اس آیت میں اختلاط کرتا ہے اور اجنبی عورتوں سے باتیں کرتا ہے ۔ چنانچہ نادان یہودیوں کے یہ اعتراضات آج تک ہیں کہ یسوع نے جس کو عیسائی اپنا خدا قرار دیتے ہیں ناپاک عورتوں سے اپنے تئیں دور نہیں رکھا بلکہ جب ایک زنا کا رعورت عطر لے کر اُس کے پاس آئی تو اس کو دانستہ یہ موقع دیا کہ وہ حرام کی کمائی کا عطر اُس کے سر کو ملے اور اُس کے پیروں پر اپنے زینت کردہ بال رکھے اور ایسا کرنا اُس کو روا نہ تھا۔ ایسا ہی اُن کا یہ بھی اعتراض ہے کہ مسیح الہامی شرط کے موافق نہیں آیا کیونکہ ملا کی نبی نے پیشگوئی کی تھی کہ مسیح نہیں آئے گا جب تک کہ ایلیا نبی دوبارہ دنیا میں نہ آجائے۔ پس جس حالت میں ایلیا تو اب تک دنیا میں نہیں آیا تو مسیح کیونکر آگیا ؟ یہ وہ اعتراض ہیں جو یہودیوں کی کتابوں میں لکھتے ہیں جن میں سے بعض میرے پاس موجود ہیں ۔ پس خدا تعالی اس آیت میں وعدہ فرماتا ہے کہ ان تمام الزامات سے میں تجھے بری