تریاق القلوب — Page 448
روحانی خزائن جلد ۱۵ ۴۴۸ تریاق القلوب مقدمہ کے بعد جو کچھ خدا تعالیٰ کے فضل اور کرم نے میری طرف ایک دنیا کو رجوع دیا اور دے رہا ہے ۔ یہ ایک ایسا امر ہے جو اُس شخص کی اس میں صریح ذلت ہے جو اس کے بر خلاف میرے لئے چاہتا تھا ۔ ہاں میاں ثناء اللہ کے تین اعتراض اور باقی ہیں اور وہ یہ کہ وہ پر چہ اخبار عام میں یہ کہتا ہے کہ محمد حسین کو چار مربع زمین مل گئی ہے اور کسی ریاست سے اس کا کچھ وظیفہ مقرر ہو گیا ہے۔ اور مسٹر جے ایم ڈوئی صاحب نے اُس کی منشاء کے موافق مقدمہ کیا ہے ۔ “ تیسرے اعتراض کے جواب کی کچھ ضرورت نہیں کیونکہ ابھی ہم لکھ چکے ہیں کہ یہ دعویٰ تو سرا سر ترک دیا ہے کہ ایسا خیال کیا جائے کہ محمد حسین کے منشاء کے موافق مقدمہ ہوا ہے۔ خود محمد حسین کو قسم دے کر پوچھنا چاہیے کہ کیا اُس کا منشاء تھا کہ آئندہ وہ کافر اور دجال اور کاذب کہنے سے باز آجائے اور کیا اُس کا یہ منشاء تھا کہ آئندہ گالیوں اور مخش کہنے اور کہانے سے باز آجائے؟ پھر کون منصف اور صاحب حیا کہہ سکتا ہے کہ یہ مقدمہ محمد حسین کے منشاء کے موافق ہوا ہاں اگر یہ اعتراض ہو کہ ہمیں بھی آئندہ موت اور ذلت کی پیشگوئی کرنے سے روکا گیا ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ ہماری کارروائی خود اُس وقت سے پہلے ختم ہو چکی تھی کہ جب ڈوئی صاحب کے نوٹس میں ایسا لکھا گیا بلکہ ہم اپنے رساله انجام آتھم میں بتفریح لکھ چکے ہیں کہ ہم ان لوگوں کو آئیندہ مخاطب کرنا بھی نہیں چاہتے جب تک یہ ہمیں مخاطب نہ کریں اور ہم بدل بیزار اور متنفر ہیں کہ ان لوگوں کا نام بھی لیں چہ جائیکہ ان کے حق میں پیشگوئی کر کے اسی قدر خطاب سے ان کو کچھ عزت دیں۔ ہمارا مدعا تین فرقوں کی نسبت تین پیشگوئیاں تھیں سو ہم اپنے اس مدعا کو پورا کر چکے ۔ اب کچھ بھی ہمیں ضرورت نہیں کہ ان لوگوں کی موت اور ذلت کی نسبت پیشگوئی کریں اور یہ الزام کہ آئندہ عموماً الہامات کی اشاعت کرنے