تریاق القلوب

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 445 of 769

تریاق القلوب — Page 445

روحانی خزائن جلد ۱۵ ۴۴۵ تریاق القلوب ہماری کچھ بھی ذلت نہیں ہوئی لیکن جو شخص منصف ہو کر ان تمام واقعات کو پڑھے گا اُس کو تو بہر حال ماننا پڑے گا کہ بلا شبہ ذلت ہو چکی ۔ اس جگہ ہمیں افسوس سے یہ بھی لکھنا پڑا ہے کہ پر چہ اخبار عام ۲۳ نومبر ۱۸۹۹ء میں ایک شخص شاء اللہ نام امرتسری نے یہ مضمون چھپوایا ہے کہ اب تک مولوی محمد حسین کی کچھ بھی ذلت نہیں ہوئی ۔ ہم حیران ہیں کہ اس صریح خلاف واقعہ امر کا کیا جواب لکھیں ۔ ہم نہیں جانتے کہ ثناء اللہ صاحب کے خیال میں ذلت کس کو کہتے ہیں۔ ہاں ہم یہ قبول کرتے ہیں کہ ذلت کئی قسم کی ہوتی ہے اور انسانوں کی ہر ایک طبقہ کے مناسب حال ایک قسم کی ذلت ہے۔ مثلاً زمینداروں میں سے ایک وہ ہیں جو فقط سرکاری دستک جاری ہونے سے اپنی ذلت خیال کرتے ہیں اور ان کے مقابل پر اس قسم کے زمیندار بھی دیکھے جاتے ہیں کہ قط مال گذاری بر وقت ادا نہ ہونے کی وجہ سے تحصیل کے چپراسی ان کو پکڑ کر لے جاتے ہیں اور بوجہ نہ ادا ئیگی معاملہ کے سخت گوشمالی کرتے ہیں بلکہ بعض اوقات دو چار جوتے اُن کو مار بھی دیتے ہیں اور وہ زمیندار جنسی خوشی سے مار کھا لیتے ہیں اور ذرہ خیال نہیں کرتے کہ کچھ بھی اُن کی بے عزتی ہوئی ہے اور اُن سے بھی زیادہ بعض شریر چوہڑوں اور چماروں اور ساھنسیوں میں سے ایسے ہوتے ہیں کہ جو جیل خانہ میں جاتے ہیں اور چوتڑوں پر ۱۳۸ بید بھی کھاتے ہیں اور با ایں ہمہ کبھی نہیں سمجھتے کہ ہماری عزت میں کچھ بھی فرق آیا ہے بلکہ جیل میں بنتے رہتے اور گاتے رہتے ہیں گویا ایک نشے میں ہیں۔ اب چونکہ عزتیں کئی قسم کی اور ذلتیں بھی کئی قسم کی ہیں اس لئے یہ بات میاں ثناء اللہ سے پوچھنے کے لائق ہے کہ وہ کسی امر کو شیخ محمد حسین کی ذلت قرار دیتے ہیں اور اگر اتنی قابل شرم باتوں میں سے جو بیچارے محمد حسین کو پیش آئیں اب تک اُس کی کچھ بھی ذلت نہیں ہوئی تو ہمیں سمجھا دیں کہ وہ کونسی صورت تھی جس سے اُس کی ذلت ہو سکتی اور بیان فرماویں کہ