تریاق القلوب — Page 415
روحانی خزائن جلد ۱۵ ۶۹ ۴۱۵ تریاق القلوب شائع ہوئی تو انجمن حمایت اسلام لاہور کے ممبروں نے گورنمنٹ میں اس مضمون کا میموریل بھیجا کہ اس کتاب کی اشاعت بند کی جائے اور نیز یہ کہ اس مصنف سے جس نے ایسی گندی کتاب تالیف کی باز پرس ہو مگر میں اُن کے میموریل کا مخالف تھا اور میں نے اپنی ایک تحریر میں صاف طور پر یہ شائع کیا کہ یہ پہلو اختیار کرنا اچھا نہیں ہے اور مجھے اُن دنوں میں انجمن حمایت اسلام کے مخالف یہ الہام ہوا تھا ستذكرون ما اقول لكم وافوض امری الی اللہ یعنی عنقریب تمہیں یہ میری بات یاد آئے گی کہ اس طریق کے اختیار کرنے میں ناکامی ہے اور جس امر کو میں نے اختیار کیا ہے یعنی مخالفین کے اعتراضات کو رڈ کرنا اور اُن کا جواب دینا اس امر کو میں خدا تعالیٰ کو سونپتا ہوں یعنی خدا میرے کام کا محافظ ہوگا مگر وہ ارادہ جو تم نے کیا ہے کہ اُمہات المؤمنین کے مؤلف کو سزا دلاؤ ۔ اس میں تمہیں کامیابی ہرگز نہیں ہوگی ۔ اور تمہیں بعد میں یاد آئے گا کہ جو پیش از وقت جتلایا گیا وہ واقعی اور درست تھا۔ یہ وہ الہام ہے جو قبل از وقت اپنی جماعت میں سے ایک گروہ کثیر کو سنا دیا گیا تھا چنانچہ مفتی محمد صادق صاحب بھیروی اور مولوی محمد علی صاحب ایم اے وغیرہ احباب اس بات کے گواہ ہیں اور جیسا کہ میں نے الہام ربانی پا کر بہت سے لوگوں پر ظاہر کر دیا تھا ایسا ہی ظہور میں آیا ۔ یعنی انجمن حمایت اسلام کے ممبروں نے جس غرض سے اپنا میموریل درباره کتاب امهات المؤمنين بحضور جناب لفٹیننٹ | گورنر بہادر روانہ کیا تھا وہ درخواست اُن کی نا منظور ہوئی اور مؤلف رسالہ امھات المؤمنين کسی مؤاخذہ کے نیچے نہ آیا۔ اور منجملہ اُن پیشگوئیوں کے جو خدا تعالیٰ نے میرے پر ظاہر فرمائیں یہ ہے کہ میرے ایک مخلص دوست مرزا محمد یوسف بیگ سامانوی جو سامانه علاقہ ریاست پٹیالہ