تریاق القلوب — Page 330
روحانی خزائن جلد ۱۵ ۶۰ ۳۳۰ تریاق القلوب چیف کورٹ کو دی تھی اور انہوں نے پڑھ کر کہا تھا کہ یہ پیشگوئی صفائی سے پوری ہوگئی ۔ چنانچہ مسٹر برون صاحب اور مولوی فضل دین صاحب حلفاً یہ گواہی دے سکتے ہیں کہ ان کو پیش از وقت اس پیشگوئی پر اطلاع ملی۔ جب میرے پر ٹیکس لگایا گیا اوراس پر عذرداری کی گئی تو ہم چھوٹی مسجد میں جو ہماری کھڑکی کے ساتھ ہے بیٹھ کر کل آمدن اور خرچ کا حساب کر رہے تھے اور مولوی محمد علی صاحب ایم اے اور ایسا ہی کئی اور جماعت کے لوگ وہاں موجود تھے۔ اور خواجہ جمال الدین صاحب بی اے اور مولوی عبد الکریم صاحب سیالکوٹی کا غذات حساب آمد و اخراجات کے متعلق کچھ دیکھ رہے تھے تو اُس وقت مجھ پر ایک کشفی حالت طاری ہو کر دکھایا گیا کہ ہندو تحصیلدار بٹالہ جس کے پاس یہ مقدمہ ٹیکس کا تھا بدل گیا اور اس کے عوض میں نے ایک اور شخص کرسی پر بیٹھے دیکھا جو مسلمان تھا اور اس کشف کے ساتھ بعض امور ایسے ظاہر ہوئے جو نیک انجام اور فتح کی بشارت دیتے تھے ۔ تب میں نے اُسی وقت یہ کشف حاضرین کو سنا دیا اور اُن کو پورے طور پر تسلی دی کہ اس مقدمہ کا انجام بخیر ہوگا اور کسی ایسے آدمی مسلمان کے یہ کام سپرد ہو گا کہ وہ انصاف کو محوظ رکھ کر پوری تفتیش کر دے گا۔ چنانچہ اس کے بعد ایسا ہوا کہ ہند و تحصیلدار یکا یک بدل گیا اور اُس کی جگہ میاں تاج الدین صاحب جواب تحصیلدار بٹالہ ہیں آئے اور انہوں نے نیک نیتی اور آہستگی اور انصاف اور پوری کوشش اور تفتیش سے اصل حقیقت کو دریافت کر لیا اور جو کچھ تحقیقات کے رُو سے حق حق ان کو معلوم ہوا بذریعہ رپورٹ صاحب ڈپٹی کمشنر بہا در ضلع گورداسپورہ مسٹر ڈیکسن صاحب کی خدمت میں اطلاع دے دی۔ اور نیک اتفاق یہ ہوا کہ صاحب موصوف بھی