تریاق القلوب — Page 300
روحانی خزائن جلد ۱۵ تریاق القلوب یعنی مثنوی رومی کا یہ شعر پڑھا تھا جو پرچہ چودھویں صدی ماہ جون ۱۸۹۷ء میں شائع ہوا تھا۔ اور وہ یہ ہے ۔ چوں خدا خواهد که پرده کس درد میلش اندر طعنه پاکاں برد سو اُس رنج کی وجہ سے جو اس عاجز کے دل کو پہنچا اس بزرگ کے حق میں دعا کی گئی تھی کہ یا تو خدا تعالیٰ اُس کو تو بہ اور پشیمانی بخشے اور یا کوئی تنبیہ نازل کرے ۔ سوخدا نے اپنے فضل اور رحم سے اُس کو توفیق تو بہ عنایت فرمائی اور اُس بزرگ کو الہام کے ذریعہ سے اطلاع دی کہ اس عاجز کی دعا اس کے بارے میں قبول کی گئی اور ایسا ہی معافی بھی ہوگی۔ سو اُس نے خدا سے یہ الہام پا کر اور آثار خوف دیکھ کر نہایت انکسار اور تذلل سے معذرت کا خط لکھا۔ وہ خط کسی قدر اختصار سے پرچہ چودھویں صدی ماہ نومبر ۱۸۹۷ء میں چھپ بھی گیا ہے مگر چونکہ اس اختصار میں بہت سے ایسے ضروری امور رہ گئے ہیں جن سے یہ ثبوت ملتا ہے کہ کیونکر خدا تعالیٰ اپنے بندوں کی دعاؤں کو قبول کرتا اور ان کے دلوں پر رعب ڈالتا اور آثار خوف ظاہر کرتا ہے اس لئے میں مناسب دیکھتا ہوں کہ اس خط کو جو میرے پاس پہنچا تھا بعض ضروری اختصار کے ساتھ شائع کر دوں ۔ اور بزرگ موصوف کا یہ اصل خط اس وجہ سے بھی شائع کرنے کے لائق ہے کہ میں اس اصل خط کو بہت سے لوگوں کو سنا چکا ہوں اور ایک جماعت کثیر اس کے مضمون سے اطلاع پا چکی ہے اور بہت سے لوگوں کو بذریعہ خطوط اس کی اطلاع بھی دی گئی ہے۔ اب جبکہ چودھویں صدی کے پرچہ کو وہ لوگ پڑھیں گے تو ضرور اُن کے دل میں یہ خیالات پیدا ہوں گے کہ جو کچھ زبانی ہمیں سنایا گیا اس میں کئی ایسی باتیں ہیں جو شائع کردہ خط میں نہیں ہیں ۔ اور ممکن ہے کہ ہمارے بعض کو تہ اندیش مخالفوں کو یہ بہانہ ہاتھ آ جائے کہ گویا ہم نے اس خط میں جو سنایا گیا اپنی طرف سے کچھ زیادت کی تھی ۔ لہذا ضروری معلوم ہوتا