تریاق القلوب

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 286 of 769

تریاق القلوب — Page 286

روحانی خزائن جلد ۱۵ ۲۸۶ تریاق القلوب خدا کو تمام تعریفیں ہیں جس نے تیری دامادی کا رشتہ عالی نسب میں کیا اور خود تجھے عالی نسب اور شریف خاندان بنایا۔ یہ تو ہم ابھی بیان کر چکے ہیں کہ جن سادات کے خاندان میں دہلی میں میری شادی ہوئی تھی وہ تمام دہلی کے سادات میں سے سندی سید ہونے میں اول درجہ پر ہیں اور علاوہ اپنی آبائی بزرگی کے وہ خواجہ میر درد کے نبیرہ ہیں اور اب تک دہلی میں خواجہ میر درد کے وارث متصور ہو کر خواجہ ممدوح کی گدی انہی کو ملی ہوئی ہے کیونکہ خواجہ موصوف کا کوئی لڑکا نہ تھا یہی وارث ہیں جو ان کی لڑکی کی اولاد ہیں اور ان کی سیادت ہندوستان میں ایک روشن ستارہ کی طرح چمکتی ہے بلکہ سوچنے سے معلوم ہوگا کہ ان کا خاندان خواجہ میر درد کے آبائی خاندان سے بڑھ کر ہے۔ کیونکہ خواجہ میر درد نے ان کی عظمت کو قبول کر کے ان کے بزرگ کولڑ کی دی اور اس زمانہ میں یہ خیال اب سے بھی زیادہ تھا کہ لڑکی دینے کے وقت عالی خاندان کو ڈھونڈتے تھے۔ اور خواجہ میر درد با خدا اور بزرگ ہونے کی وجہ سے سلطنت چغتائیہ سے ایک بڑی جاگیر پاتے تھے اور دنیوی حیثیت کے رُو سے ایک نواب کا منصب رکھتے تھے۔ اور پھر ان کی وفات کے بعد وہ جاگیر کے دیہات انہی میں تقسیم ہوئے ۔ اور اس عظمت خاندانی کے علاوہ میرے الہامات میں جس قدر اس بات کی تصریح کی گئی ہے کہ یہ خالص سید اور بنی فاطمہ ہیں یہ ایک خاص فخر کا مقام ان لوگوں کے لئے ہے ۔ اور میں خیال نہیں کر سکتا کہ تمام پنجاب اور ہندوستان بلکہ تمام اسلامی دنیا میں کوئی اور خاندان سادات کا ایسا ہو کہ نہ صرف ان کی سیادت کو اسلامی سلطنت نے مان کر ان کی تعظیم کی ہو بلکہ خدا نے اپنی خاص کلام اور گواہی سے اس کی تصدیق کر دی ہو ۔ یہ تو ان کے خاندان کا حال ہے ۔ اور میں اپنے خاندان کی نسبت کئی دفعہ لکھ چکا ہوں کہ وہ ایک