تریاق القلوب — Page 261
روحانی خزائن جلد ۱۵ ۴۳ ۲۶۱ تریاق القلوب چند روز بعد خبر ملی کہ مدعی جس نے یہ مقدمہ دائر کیا تھا نا گہانی موت سے مر گیا اور شخص ماخوذ نے خلاصی پائی۔ فالحمد للہ علی ذالک ۔ اس کے گواہ بھی کئی مسلمان اور وہی مذکور الصدر آریہ ہیں جو حلفاً بیان کر سکتے ہیں مگر حلف مطابق نمونہ نمبر ۲ کے ہوگی اور یہ نشان آج سے میں برس پہلے براہین احمدیہ میں درج ہے۔ دیکھو صفحہ ۴۷۷ و ۴۷۸۔ عرصہ قریباً ستائیس برس کا گذرا ہے کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ میں ایک وسیع جگہ میں ہوں اور وہاں ایک چبوترہ ہے کہ جو متوسط قد کے انسان کی کمر تک اُونچا ہے اور چبوترہ پر ایک لڑکا بیٹھا ہے جس کی عمر چار پانچ برس کی ہوگی اور وہ لڑ کا نہایت خوبصورت ہے اور چہرہ اُس کا چمکتا ہے۔ اور اُس کے چہرہ پر ایک ایسا نو ر اور پاکیزگی کا رُعب ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ انسان نہیں ہے اور معا دیکھتے ہی میرے دل میں گذرا کہ وہ فرشتہ ہے۔ تب میں اس کے نزدیک گیا اور اُس کے ہاتھ میں ایک پاکیزہ نان تھا جو پاکیزگی اور صفائی میں کبھی میں نے دنیا میں نہیں دیکھا اور وہ نان تازہ بتازہ تھا اور چمک رہا تھا۔ فرشتہ نے وہ نان مجھ کو دیا اور کہا کہ یہ تیرے لئے اور تیرے ساتھ کے درویشوں کے لئے ہے ۔ اس خواب کے گواہ شیخ حامد علی اور میاں جان محمد اور دونوں آریہ مذکور اور بہت سے اور مخلص دوست ہیں اور یہ اُس زمانہ میں خواب آئی تھی جبکہ نہ میں کوئی شہرت اور دعویٰ رکھتا تھا اور نہ میرے ساتھ کوئی جماعت درویشوں کی تھی مگر اب میرے ساتھ بہت سی وہ جماعت ہے جنہوں نے خود دین کو دنیا پر مقدم رکھ کر اپنے تئیں درویش بنادیا ہے اور اپنے وطنوں سے ہجرت کر کے اور اپنے قدیم دوستوں اور اقارب سے علیحدہ ہو کر اور اپنی طرز زندگی کو سراسر مسکینی اور درویشی