تریاق القلوب — Page 239
روحانی خزائن جلد ۱۵ ۲۳۹ تریاق القلوب اور خدا سے بیزار ہو گیا اور شیطان کا وارث ہو گیا اور اُس کا سارا دل سیاہ ہو گیا۔ اور لعنت کی زہر ناک کیفیت سے اُس کا دل اور اس کی آنکھیں اور اس کے کان اور اس کی زبان اور اس کے تمام خیالات بھر گئے ۔ اور اس کی پلید زمین میں بجر لعنتی درختوں کے اور کچھ باقی نہ رہا۔ کیا ایسے اصولوں کو کوئی ایماندار اور شریف انسان اپنی نجات کا ذریعہ شہر اسکتا ہے اگر نجات کا یہی ذریعہ ہے تو ہر ایک پاک دل شخص کا کانشنس یہی گواہی دے گا کہ ایسی نجات سے ہمیشہ کا عذاب بہتر ہے ۔ تمام انسانوں کا اس سے مرنا بہتر ہے کہ لعنت جیسا سڑا ہوا مردار جو شیطان کی خاص وراثت ہے مسیح جیسے پاک اور پاک دل کے منہ میں ڈالیں اور اس مردار کا اس کے دل کو ذخیرہ بنا دیں اور پھر اس مکروہ عمل سے اپنی نجات اور رہائی کی اُمید رکھیں ۔ غرض یہ وہ عیسائی تعلیم ہے جس کو ہم نے سراسر ہمدردی اور خیر خواہی کی راہ سے اپنی کتابوں میں رڈ کیا ہے اور صرف اسی قدر نہیں بلکہ یہ بھی ثابت کر کے دکھلایا ہے کہ خود حضرت مسیح علیہ السلام کا سولی ملنا ہی جھوٹ ہے۔ انجیل خود گواہی دیتی ہے کہ وہ سولی نہیں ملے ۔ اور پھر خود حضرت مسیح نے انجیل میں اپنے اس واقعہ کی مثال حضرت یونس کے واقعہ سے منطبق کی ہے اور یہ کہا ہے کہ میرا قبر میں داخل ہونا اور قبر سے نکلنا یونس نبی کے مچھلی کے نشان سے مشابہ ہے۔ اور ظاہر ہے کہ یونس مچھلی کے پیٹ میں نہ مردہ داخل ہوا تھا اور نہ مردہ نکلا تھا۔ بلکہ زندہ داخل ہوا اور زندہ ہی نکلا ۔ پھر اگر حضرت مسیح قبر میں مردہ داخل ہوا تھا تو اس کے قصے کو یونس نبی کے قصے سے کیا مشابہت ۔ اور ممکن نہیں کہ نبی جھوٹ بولے اس لئے یہ اس بات پر یقینی دلیل ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام صلیب پر فوت نہیں ہوئے اور نہ مردہ ہونے کی حالت میں قبر میں داخل ہوئے اور اگر موجودہ انجیلیں تمام و کمال اس واقعہ کے مخالف ہوتیں تب بھی کوئی سچا ایماندار