تریاق القلوب

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 228 of 769

تریاق القلوب — Page 228

روحانی خزائن جلد ۱۵ ۲۷ ۲۸ ۲۲۸ تریاق القلوب جب میں نے کتاب براہین احمدیہ تالیف کی تو اس وقت مجھے چھپوانے کی استطاعت نہ تھی میں نے جناب الہی میں دعا کی تو ان الفاظ سے جواب آیا۔ کہ بالفعل نہیں۔ چنانچہ ایک مدت تک باوجود ہر ایک طور کی کوششوں کے کچھ بھی سرمایہ طبع کتاب میسر نہ ہو سکا اور لوگوں کو باوجود تحریک اور شائع کرنے اشتہارات کے دیر تک کچھ توجہ نہ ہوئی ۔ غرض اسی طرح الہام پورا ہوا جس طرح کہ بتلایا گیا تھا یہاں تک کہ لوگوں کی عدم توجہی نے اس الہام پر اطلاع رکھنے والوں کو تعجب میں ڈالا اور جن لوگوں کے پاس یہ پیشگوئی بیان کی گئی تھی ان کے دل پر اس واقعہ کی بہت تاثیر ہوئی ۔ اس الہام کی اطلاع شیخ حامد علی اور لالہ شرمیت کھتری اور میاں جان محمد امام مسجد اور دوسرے اور کئی لوگوں کو قادیاں کے رہنے والوں میں سے قبل از وقت دی گئی تھی جو حلفاً بیان کر سکتے ہیں۔ اور یہ الہام عرصہ میں سال سے کتاب براہین احمدیہ میں درج ہے۔ دیکھو صفحہ ۲۲۵۔ جب اس الہام پر جو ابھی میں نے نمبر ۲۷ میں ذکر کیا ہے کچھ دیر گذر گئی اور براہین احمدیہ کے طبع کرانے کا شوق حد سے بڑھا اور کسی کی طرف سے مالی امداد نہ ہوئی تو میرے دل پر صدمہ پہنچنا شروع ہوا۔ تب میں نے اسی اضطراب کی حالت میں دعا کی اس پر خدا وند قدیر اور کریم کی طرف سے یہ الہام ہوا ۔ ھر الیک بجذع النخلة تساقط عليك رُطَبًا جنیا یعنی کھجور کا پیٹر یا اس کی شاخوں میں سے کوئی شاخ ہلا تب تر و تازہ کھجور میں تیرے پر گریں گی ۔ مجھے بخوبی یاد ہے کہ اس الہام کی خبر میں نے مولوی ابو سعید محمد حسین صاحب کو بھی دی تھی اور اس ضلع کے ایک اکسٹرا اسٹنٹ کو بھی جس کا نام حافظ ہدایت علی تھا اور کئی اور لوگوں کو بھی اطلاع دی اور قادیاں کے وہ دونوں ہندو یعنی شرمیت اور ملا وامل جن کا ذکر