تریاق القلوب — Page 159
روحانی خزائن جلد ۱۵ ۱۵۹ تریاق القلوب مسلمان ہونے والے کو کون روکتا ہے اور مساجد میں نماز پڑھنے اور بانگ دینے سے کون منع کرتا ہے۔ پس اگر ایسے امن کے وقت میں ایسا مسیح ظاہر ہو کہ وہ امن کا قدرنہیں کرتا۔ بلکہ خواہ نخواہ مذہب کے لئے تلوار سے لوگوں کو قتل کرنا چاہتا ہے تو میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر (12) کہتا ہوں کہ بلاشبہ ایسا شخص جھوٹا کذاب مفتری اور ہرگز سچا مسیح نہیں ہے۔ مجھے تو خواہ قبول کرو یا نہ کرو مگر میں تم پر رحم کر کے تمہیں سیدھی راہ بتلاتا ہوں کہ ایسے اعتقاد میں سخت غلطی پر ہو۔ لاٹھی اور تلوار سے ہرگز ہرگز دین دالوں میں داخل نہیں ہو سکتا اور آپ لوگوں کے پاس ان بیہودہ خیالات پر دلیل بھی کوئی نہیں ۔ صحیح بخاری میں مسیح موعود کی شان میں صاف حدیث موجود ہے کہ يَضَعُ الحرب یعنی مسیح موعود لڑائی نہیں کرے گا تو پھر کیسے تعجب کی بات ہے کہ ایک طرف تو آپ لوگ اپنے منہ سے کہتے ہیں کہ صحیح بخاری قرآن شریف کے بعد اصح الکتب ہے اور دوسری طرف صحیح بخاری کے مقابل پر ایسی حدیثوں پر عقیدہ کر بیٹھتے ہیں کہ جو صریح بخاری کی حدیث کے منافی پڑی ہیں ۔ چاہیے تھا کہ اگر کر وڑ ایسی کتاب ہوتی تب بھی اس کی پرواہ نہ کرتے کیونکہ ان کا مضمون نہ صرف صحیح بخاری کی حدیث کے منافی بلکہ قرآن شریف سے بھی صریح مخالف ہے۔ لیکن ایک پرانے عقیدہ کے ہونے کی وجہ سے آپ لوگ غلطی کو چھوڑنا نہیں چاہتے ۔ اور دوسرے ایک یہ بھی سبب ہے کہ آپ لوگوں کے زعم میں آپ کا فرضی مسیح اور مہدی تو ظاہر ہو کر اور تمام کافروں کو قتل کر کے ان کا مال آپ لوگوں کو دیدے گا اور تمام نفسانی خواہشیں پوری کر دے گا جیسا کہ آپ لوگوں کا عقیدہ ہے۔ لیکن میں تو اس لئے نہیں آیا کہ آپ لوگوں کو دنیا کے گندے مال میں مبتلا کروں اور آپ پر تمام ہوا و ہوس کے پورے کرنے کے دروازے کھول دوں بلکہ میں اس لئے آیا ہوں کہ موجودہ دنیا کے حظ سے بھی کچھ کم کر کے خدا تعالیٰ کی طرف کھینچوں۔ پس حقیقت میں میرے آنے سے آپ لوگوں کا بہت ہی حرج ہوا ہے ۔ گویا تیرہ سو برس کے مال و متاع کی آرزوئیں خاک میں مل گئیں یا یوں کہو کہ کروڑ ہا روپیہ کا نقصان ہو گیا۔