تریاق القلوب

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 131 of 769

تریاق القلوب — Page 131

روحانی خزائن جلد ۱۵ ۱۳۱ تریاق القلوب چو پہلواں بدر آید ز نزد رب کریم بهر دمش مدد صدق مدعا باشد چه دستها که نماید بروز کشتی و جنگ باس امید کہ نفسے مگر رہا باشد ہمیں ست طائفه برگزیدگان خدا ہمیں علامت شان از خدائے ما باشد بجنگ و حرب گزارند ہر دمے کہ بود که تا حفاظت مردم از فتنه با باشد بخیر و عافیتت بگذرد شب اندر خواب کہ پاسبانی ایشاں بصد عنا باشد تلام ہمت مردان کارزار بباشد که امن مرد و زن از مردم وغا باشد پناہ بیضہ اسلام آں جوانمردے ست کہ خوں بدل رہنے دین مصطفے باشد ازین بود که همه اهل و نیک طینت را سر نیاز بدرگاه شان فرا باشد دماغ و کبر بمردان حرب نادانی ست کے کہ کبر کند سخت بیا باشد چہ جائے کبر کہ ایشاں پناہ ہر بشراند طفیل شاں ہمہ عمامہ و قبا باشد اگر ز مامن شاں یکدمے جدا بشوی متاع و مایه ایماں ز تو جدا باشد سر است زیر تبر صادقان مخلص را کہ تارہد سر قومی که در بلا باشد اصول شاں ہمہ ہمدردی است و مہر وکرم طریق شاں رو عجز و سر رضا باشد ہزار جان گرامی فدائے آں دل باد که مست و محو رضا ہائے کبریا باشد مردان کا رزار سے مراد وہ لوگ نہیں ہیں جو دین پھیلانے کے بہانے سے خلق خدا پر تلوار اُٹھاتے قتل کرتے اور ایک جہان کو مصیبت میں ڈالتے ہیں بلکہ ایسے لوگ جن کے پاس دین پھیلانے کے لئے صرف تلوار ہے در حقیقت درندوں کی طرح ہیں اور کسی تعریف کے لائق یہ لوگ نہیں ہیں۔ کیونکہ ناحق پیجا خونریزی کر کے مخالفوں کو اعتراض کا موقع دیتے ہیں بلکہ اس جگہ مردان کا رزار سے مراد وہ با خدا مرد ہیں جن کو خدا تعالی کی طرف سے معجزہ نمائی کی طاقت ملتی ہے اور اعلی دلائل عطا کئے جاتے ہیں اور خدا تعالیٰ کی کتاب کا علم عطا کیا جاتا ہے۔ سو وہ نشان اور برہان سے منکروں کو ملزم ☆ کرتے ہیں اور اس طرح پر میدان مباحثات میں فتح نمایاں پاتے ہیں ۔ منہ