تریاق القلوب — Page 115
روحانی خزائن جلد ۱۵ ۱۱۵ ستاره قیصره میں نے تحفہ قیصریہ میں جو حضور قیصرہ ہند کی خدمت میں بھیجا گیا یہی حالات اور خدمات اور دعوات گزارش کئے تھے اور میں اپنی جناب ملکہ معظمہ کے اخلاق وسیعہ پر نظر رکھ کر ہر روز جواب کا امیدوار تھا اور اب بھی ہوں۔ میرے خیال میں یہ غیر ممکن ہے کہ میرے جیسے دعا گو کا وہ عاجزانہ تحفہ جو بوجہ کمال اخلاص خون دل سے لکھا گیا تھا اگر وہ حضور ملکہ معظمہ قیصرہ ہند دام اقبالہا کی خدمت میں پیش ہوتا تو اس کا جواب نہ آتا بلکہ ضرور آتا ضرور آتا۔ اس لئے مجھے بوجہ اس یقین کے کہ جناب قیصرہ ہند کے پر رحمت اخلاق پر کمال وثوق سے حاصل ہے اس یاد دہانی کے عریضہ کو لکھنا پڑا اور اس عریضہ کو نہ صرف میرے ہاتھوں نے لکھا ہے بلکہ میرے دل نے یقین کا بھرا ہوا زور ڈال کر ہاتھوں کو اس پر ارادت خط کے لکھنے کے لئے چلایا ہے۔ میں دعا کرتا ہوں کہ خیر اور عافیت اور خوشی کے وقت میں خدا تعالیٰ اس خط کو حضور قیصرہ ہند دام اقبالہا کی خدمت میں پہنچاوے اور پھر جناب ممدوحہ کے دل میں الہام کرے کہ وہ اس بچی محبت اور بچے اخلاص کو جو حضرت موصوفہ کی نسبت میرے دل میں ہے اپنی پاک فراست سے شناخت کرلیں اور رعیت پروری کے رو سے مجھے پر رحمت جواب سے ممنون فرماویں اور میں اپنی عالی شان جناب ملکہ معظمہ قیصرہ ہند کی عالی خدمت میں اس خوشخبری کو پہنچانے کے لئے بھی مامور ہوں کہ جیسا کہ زمین پر اور زمین کے اسباب سے خدا تعالیٰ نے اپنی کمال رحمت اور کمال مصلحت سے ہماری قیصرہ ہند دام اقبالہا کی سلطنت کو اس ملک اور دیگر ممالک میں قائم کیا ہے تا کہ زمین کو عدل اور امن سے بھرے۔ ایسا ہی اس نے آسمان سے ارادہ فرمایا ہے کہ اس شہنشاہ مبارکہ قیصرہ ہند کے دلی مقاصد کو پورا کرنے کے لئے جو عدل اور امن اور آسودگی عامہ خلائق اور رفع فساد اور تہذیب اخلاق اور وحشیانہ حالتوں کا دور کرنا ہے۔ (2)