توضیح مرام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 44 of 748

توضیح مرام — Page 44

روحانی خزائن جلد۳ بوم بوم فتح اسلام وہ ساری عمر میں ایک مرتبہ بھی تمہیں یاد نہیں آتا۔ کیا بد قسمتی ہے کہ ایک بڑے امرا ہم سے تم قطعا غافل اور آنکھیں بند کئے بیٹھے ہو اور جو گزشتنی گزاشتنی امور ہیں اُن کی ہوس میں دن ۷۳ رات سرپٹ دوڑ رہے ہو تمہیں خوب خبر ہے کہ بلا شبہ وہ وقت تم پر آنے والا ہے کہ جو ایک دم میں تمہاری زندگی اور تمہاری ساری آرزوؤں کا خاتمہ کر دے گا مگر یہ عجیب شقاوت ہے کہ باوجود اس علم کے پھر اپنے تمام اوقات دنیا طلبی میں ہی برباد کر رہے ہو ۔ اور دنیا طلبی بھی صرف وسائل جائزہ تک محدود نہیں بلکہ تمام نا جائز وسیلے جھوٹ اور دغا سے لے کر نا حق کے خون تک تم نے حلال کر رکھے ہیں۔ اور ان تمام شرمناک جرائم کے ساتھ جو تم میں پھیلے ہوئے ہیں کہتے ہو کہ آسمانی نور اور آسمانی سلسلہ کی ہمیں ضرورت نہیں بلکہ اس سے سخت عداوت رکھتے ہو اور تم نے خدا تعالیٰ کے آسمانی سلسلہ کو بہت ہلکا سمجھ رکھا ہے یہاں تک کہ اُس کے ذکر کرنے میں بھی تمہاری زبانیں کراہت سے بھرے ہوئے الفاظ کے ساتھ اور بڑی رعونت اور ناک چڑھانے کی حالت میں ہجو کا حق ادا کرتی ہیں اور تم بار بار کہتے ہو کہ ہمیں کیوں کر یقین آوے کہ یہ سلسلہ منجانب اللہ ہے۔ میں ابھی اس کا جواب دے چکا ہوں کہ اس درخت کو اس کے پھلوں سے اور اس نیر کو اُس کی روشنی سے شناخت کرو گے۔ میں نے ایک دفعہ یہ پیغام تمہیں پہنچا دیا ہے۔ اب تمہارے اختیار میں ہے کہ اس کو قبول کرو یا نہ کرو اور میری باتوں کو یا در کھویا لوح حافظہ سے بھلا دو۔ جیتے جی قدر بشر کی نہیں ہوتی پیارو یاد آئیں گے تمہیں میرے سخن میرے بعد ۷۵ خاتم مشتمل بر مرثیه تفرقه حالت اسلام سے سزد گر خوں بہار د دیدۂ ہر اہل دیں ہر پریشاں حالی اسلام و تحط المسلمین دین حق را گردش آمد صعبناک و سهمگیں سخت شورے اوفتاد اندر جہاں از کفر و کیں