توضیح مرام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 210 of 748

توضیح مرام — Page 210

روحانی خزائن جلد ۳ ۲۱۰ ازالہ اوہام حصہ اول امام محمد اسمعیل بخاری نے چھوڑ دیا ہے اس جگہ حیرانی کا یہ مقام ہے کہ جو کچھ <mark>دجال</mark> کے حالات وصفات اس حدیث میں لکھے گئے ہیں اور جس طرز سے اُس کے آنے کی خبر بتائی گئی ہے یہ بیان دوسری حدیثوں کے بیان سے بالکل منافی اور مبائن اور مخالف پایا جاتا ہے کیونکہ صحیحین میں یہ حدیث بھی ہے وعن محمد بن المنكدر قال رأيت ج<mark>اب</mark>ر <mark><mark>اب</mark>ن</mark> عبدالله يَحلف بالله ان <mark><mark>اب</mark>ن</mark> صيّاد ال<mark>دجال</mark> قلت تحلف بالله قال اني سمعت عمر يحلف على ذلك عند النبي صلى الله عليه وسلم فلم ينكره النبي صلى الله عليه وسلم متفق علیہ اور ایک دوسری حدیث یہ بھی ہے عن نافع قال كان <mark><mark>اب</mark>ن</mark> عمر يقول وا ، والله ما اشک ان المسيح ال<mark>دجال</mark> <mark><mark>اب</mark>ن</mark> صيّاد رواه <mark>اب</mark>وداؤد والبيهقي في كت<mark>اب</mark> البعث والنشور پہلی حدیث کا ترجمہ یہ ہے کہ محمد بن منکدر ت<mark>اب</mark>عی سے روایت ہے کہ کہا کہ میں نے ج<mark>اب</mark>ر بن عبداللہ کو دیکھا کہ خدائے تعالیٰ کی قسم کھاتا تھا کہ <mark><mark>اب</mark>ن</mark> <mark>صیاد</mark> ہی <mark>دجال</mark> معہود ہے اور محمد بن منکد رکہتا ہے کہ میں نے ج<mark>اب</mark>ر کو کہا کہ کیا تو خدائے تعالیٰ کی قسم کھاتا ہے یعنی یہ امر تو ظنی ہے نہ یقینی پھر قسم کیوں کھاتا ہے۔ ج<mark>اب</mark>ر نے کہا کہ میں نے عمر کو بحضور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسی بارہ میں قسم کھاتے سنا یعنی عمر رضی اللہ عنہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے رو بر و قسم کھا کر کہا کرتا تھا کہ <mark><mark>اب</mark>ن</mark> <mark>صیاد</mark> ہی رجال معہود ہے۔ پھر دوسری حدیث کا ترجمہ یہ ہے کہ نافع سے روایت ہے کہ <mark><mark>اب</mark>ن</mark> عمر کہتے تھے کہ مجھے قسم ہے اللہ کی کہ میں <mark><mark>اب</mark>ن</mark> <mark>صیاد</mark> کے مسیح <mark>دجال</mark> ہونے میں شک نہیں کرتا ۔ پھر ایک اور حدیث میں جو شرح السنہ میں لکھی ہے یہ فقرہ درج ہے لم یزل رسول الله صلى الله عليه وسلم مشفقا انه هو <mark>دجال</mark> | یعنی ہمیشہ پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم اس خوف میں تھے کہ <mark><mark>اب</mark>ن</mark> <mark>صیاد</mark>، <mark>دجال</mark> ہوگا یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ہمیشہ گمان غالب یہی رہا کہ <mark><mark>اب</mark>ن</mark> <mark>صیاد</mark> ہی <mark>دجال</mark> ہے۔ <mark>اب</mark> جبکہ خاص صحیح بخاری اور صحیح مسلم کے بیان سے ث<mark>اب</mark>ت ہو گیا <mark><mark>اب</mark>ن</mark> <mark>صیاد</mark> ہی <mark>دجال</mark> معہود ہے بلکہ صح<mark>اب</mark>ہ نے frie ۲۲۲