توضیح مرام — Page 106
روحانی خزائن جلد ۳ 1+4 ازالہ اوہام حصہ اول نہیں آتا بلکہ مسیح کے معجزات اور پیشگوئیوں پر جس قدر اعتراض اور شکوک پیدا ہوتے ہیں میں نہیں سمجھ سکتا کہ کسی اور نبی کے خوارق یا پیش خبریوں میں کبھی ایسے شبہات پیدا ہوئے ہوں کیا تالاب کا قصہ مسیحی معجزات کی رونق دور نہیں کرتا ؟ اور پیشگوئیوں کا حال اس سے بھی زیادہ تر ابتر ہے کیا یہ بھی کچھ پیشگوئیاں ہیں کہ زلزلے آئیں گے مری پڑے گی لڑائیاں ہوں گی قحط پڑیں گے اور اس سے زیادہ تر قابل افسوس یہ امر ہے کہ جس قدر حضرت مسیح کی پیشگوئیاں غلط نکلیں اس قدر صحیح نکل نہیں سکیں ۔ اُنہوں نے یہودا اسکر یوطی کو بہشت کے بارہ تختوں میں سے ایک تخت دیا تھا جس سے آخر وہ محروم رہ گیا اور پطرس کو نہ صرف تخت بلکہ آسمان کی گنجیاں بھی دیدی تھیں اور بہشت کے دروازے کسی پر بند ہونے یا کھلنے اُسی کے اختیار میں رکھے تھے مگر پطرس جس آخری کلمہ کے ساتھ حضرت مسیح سے الوداع ہوا وہ یہ تھا کہ اس نے مسیح کے رو بر و سیح پر لعنت بھیج کر اور قسم کھا کر کہا کہ میں اس شخص کو نہیں جانتا۔ ایسی ہی اور بھی بہت کی پیشگوئیاں ہیں جو صحیح نہیں نکلیں مگر یہ بات الزام کے لائق نہیں کیونکہ امورا اخبار یہ کشفیہ میں اجتہادی غلطی انبیاء سے بھی ہو جاتی ہے۔ حضرت موسیٰ کی بعض پیشگوئیاں بھی اس صورت پر ظہور پذیر نہیں ہوئیں جس صورت پر حضرت موسیٰ نے اپنے دل میں امید باندھ لی تھی غایت مافی الباب یہ ہے کہ حضرت مسیح کی پیشگوئیاں اوروں سے زیادہ غلط نکلیں مگر یہ غلطی نفس الہام میں نہیں بلکہ سمجھ اور اجتہاد کی غلطی ہے چونکہ انسان تھے اور انسان کی رائے خطا اور صواب دونوں کی طرف جاسکتی ہے اس لئے اجتہادی طور پر یہ لغزشیں پیش آ گئیں۔ اس مقام میں زیادہ تر تعجب یہ ہے کہ حضرت مسیح معجزہ نمائی سے صاف انکار کر کے کہتے ہیں کہ میں ہر گز کوئی معجزہ دکھا نہیں سکتا مگر پھر بھی عوام الناس ایک انبار معجزات کا ان کی طرف منسوب کر رہے ہیں ۔ نہیں دیکھتے کہ وہ تو کھلے کھلے انکار کئے جاتے ہیں چنانچہ میر و دیس کے سامنے حضرت مسیح جب پیش کئے گئے تو ہیرودیس مسیح کو دیکھ کر بہت خوش ہوا کیونکہ اسے اس کی کوئی کرامت دیکھنے کی اُمید تھی پر ہیرودیس نے ہر چند اس بارہ میں مسیح سے