توضیح مرام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 90 of 748

توضیح مرام — Page 90

روحانی خزائن جلد۳ پیدا ہوتی ہے وہی حرکت اس اندام کے کل اعضا یا بعض میں جیسا کہ اس قیوم کی ذات کا تقاضا ہو پیدا ہو جاتی ہے۔ اس بیان مذکورہ بالا کی تصویر دکھلانے کے لئے تخیلی طور پر ہم فرض کر سکتے ہیں کہ قیوم العالمین ایک ایسا وجود اعظم ہے جس کے بے شمار ہاتھ بے شمار پیر اور ہر ایک عضو اس کثرت سے ہے کہ تعداد سے خارج اور لا انتہا عرض اور طول رکھتا ہے اور تندوے کی طرح اس وجود اعظم کی تاریں بھی ہیں جو صفحہ ہستی کے تمام کناروں تک پھیل رہی ہیں اور کشش کا کام دے رہی ہیں۔ یہ وہی اعضا ہیں جن کا دوسرے لفظوں میں عالم نام ہے جب قیوم عالم کوئی حرکت جزوی یا کلی کرے گا تو اس کی حرکت کے ساتھ اس کے اعضا میں حرکت پیدا ہو جانا ایک لازمی امر ہو گا اور وہ اپنے تمام ارادوں کو انہیں اعضا کے ذریعہ سے ظہور میں لائے گا نہ کسی اور طرح سے پس یہی ایک عام فہم مثال اس روحانی امر کی ہے کہ جو کہا گیا ہے کہ مخلوقات کی ہر یک جز و خدائے تعالیٰ کے ارادوں کی تابع اور اس کے مقاصد مخفیہ کو اپنے خادمانہ چہرہ میں ظاہر کر رہی ہے اور کمال درجہ کی اطاعت سے اس کے ارادوں کی راہ میں محو ہورہی ہے اور یہ اطاعت اس قسم کی ہر گز نہیں ہے جس کی صرف حکومت اور زبردستی پر بنا ہو بلکہ ہر یک چیز کو خدائے تعالیٰ کی طرف ایک مقناطیسی کشش پائی جاتی ہے اور ہر یک ذرہ ایسا بالطبع اس کی طرف جھکا ہوا معلوم ہوتا ہے جیسے ایک وجود کے متفرق اعضا اس وجود کی طرف جھکے ہوئے ہوتے ہیں۔ پس در حقیقت یہی سچ ہے اور بالکل سچ کہ یہ تمام عالم اس وجود اعظم کے لئے بطور اعضا کے واقعہ ہے اور اسی وجہ سے وہ قیوم العلمین کہلاتا ہے کیونکہ جیسی جان اپنے بدن کی قیوم ہوتی ہے ایسا ہی وہ تمام مخلوقات کا قیوم ہے اگر ایسا نہ ہوتا تو نظام عالم کا بالکل بگڑ جاتا۔ هر یک ارادہ اس قیوم کا خواہ وہ ظاہری ہے یا باطنی دینی ہے یا دنیوی اسی