تحفۂ قیصریہ — Page 288
روحانی خزائن جلد ۱۲ ۲۸۸ جلسه احباب خوشی سے تین دن تک اکثر احباب زمین پر سوتے رہے۔ جس اخلاص اور محبت اور صدق دل کے ساتھ میری جماعت کے معزز اصحاب نے اس خوشی کی رسم کو ادا کیا میرے پاس وہ الفاظ نہیں کہ میں بیان کر سکوں۔ میں اپنے پہلے بیان میں یہ ذکر بھول گیا تھا کہ اس تقریب جلسہ میں ۲۲ جون ۱۸۹۷ء کو ہماری جماعت کے چار مولوی صاحبان نے اٹھ کر عام لوگوں کو جناب ملکہ معظمہ قیصرہ ہند کی اطاعت اور کچی وفاداری کی ترغیب دی۔ چنانچہ پہلے اخویم مولوی عبد الکریم صاحب نے اٹھ کر اس بارے میں بہت تقریر کی پھر اخویم حضرت مولوی حکیم نورالدین صاحب بھیروی نے تقریر کی اور پھر بعد ان کے اخویم مولوی برہان الدین صاحب جہلمی اٹھے اور انہوں نے پنجابی میں تقریر کر کے عام لوگوں کو اطاعت ملکہ معظمہ کے لئے بہت ترغیب دی بعد ان کے مولوی جمال الدین صاحب سید والہ ضلع منٹگمری نے اٹھ کر پنجابی میں تقریر کی مگر انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حضرت مسیح علیہ السلام جن کو نادان مسلمان اب تک خونریز کی صورت میں انتظار کر رہے ہیں وہ در حقیقت فوت ہو گئے ہیں۔ یعنی ایسے خیال کہ کسی وقت مہدی اور مسیح کے آنے سے مسلمان خونریزیاں کریں گے صحیح نہیں ہے اور عام لوگوں کو نیک بختی اور نیک چلنی کی ترغیب دی گئی اور اس مبارک موقعہ پر ساٹھ ستر آدمیوں نے ہر ایک گناہ اور بدچلنی سے رو رو کر تو بہ کی یہاں تک کہ ان کی گریہ وزاری سے مسجد گونج رہی تھی۔ اب ذیل میں وہ دعا ئیں چھ زبانوں میں درج کی جاتی ہیں: الراقم میرزا غلام احمد قادیانی ۲۳ جون ۱۸۹۷ء دعا اور آمین اردو زبان میں اے مخلصان با صدق وصفا و محبان بے ریا جس امر کے لئے آپ سے صاحبان تکلیف فرما ہو کر اس عاجز کے پاس قادیان میں پہنچے ہیں وہ یہ ہے ہم جناب ملکہ معظمہ قیصرہ ہند کے احسانات کو یاد کر کے ان کی سلطنت