تحفۂ غزنویہ — Page 579
روحانی خزائن جلد ۱۵ ۵۷۹ تحفه غزنویه اور نصوص صریحہ کو چھوڑتا ہے۔ واضح ہو کہ اس بارے میں صحیح بخاری میں جو اصح الکتب کہلاتی ہے مندرجہ ذیل عبارتیں ہیں۔ عن عبد الله بن عباس ان ابابكر خرج وعمر يكلم الناس فقال اجلس یا عمر فابى عمر ان يجلس فاقبل الناس اليه وتركوا عمر فقال ابوبكراما بعد من منكم يعبد محمدًا فان محمدًا قد مات ومن كان منكم يعبد الله فان الله حتى لا يموت قال الله وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ الى الشاكرين۔ وقال والله كان الناس لم يعلموا ان الله انزل هذه الأية حتى تلاها ابوبكر فتلقاها منه الناس كلهم فما اسمع بشرا من الناس الا يتلوها۔۔۔۔۔ ان عمرًا قال والله ما هو الا ان سمعت ابابكر تلاها فعقرت حتى ما يقلنى رجلاي وحتى اهويت الى الارض حتى سمعته تلاها ان النبي صلى ا الله عليه وسلم قد مات ۔ یعنی ابن عباس سے روایت ہے کہ ابوبکر نکلا ( یعنی بروز وفات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ) اور عمر لوگوں سے کچھ باتیں کر رہا تھا ( یعنی کہہ رہا تھا کہ آنحضرت فوت نہیں ہوئے بلکہ زندہ ہیں) پس ابو بکر نے کہا کہ اے عمر بیٹھ جا مگر عمر نے بیٹھنے سے انکار کیا۔ پس لوگ ابوبکر کی طرف متوجہ ہو گئے اور عمر کو چھوڑ دیا پس ابوبکر نے کہا کہ بعد حد وصلوۃ واضح ہو کہ جو شخص تم میں (۲۷) سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی پرستش کرتا ہے اس کو معلوم ہو کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) فوت ہو گیا اور جو شخص تم میں سے خدا کی پرستش کرتا ہے تو خدا زندہ ہے جو نہیں مرے گا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی موت پر دلیل یہ ہے کہ خدا نے فرمایا ہے کہ محمد صرف ایک رسول ہے اور اس سے پہلے تمام رسول اس دنیا سے گذر چکے ہیں یعنی مر چکے ہیں اور حضرت ال عمران : ۱۴۵