تحفۂ غزنویہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 564 of 769

تحفۂ غزنویہ — Page 564

روحانی خزائن جلد ۱۵ ۵۶۴ تحفه غزنویه تیرا اُستاد مجھ سے بڑھ کر مفتری تھا اور قیامت اور حساب اور دوزخ اور جنت پر ایمان نہیں رکھتا تھا کیونکہ بقول تمہارے اُس نے ایک ایسے آدمی کو سچا اور منجانب اللہ قرار دیا جو خدا پر افترا کرتا تھا۔ اے نادان یہ تمام تیری گالیاں تیری طرف ہی عود کرتی ہیں جب تک تو یہ ثابت نہ کرے کہ جو کچھ تیرے استاد عبد اللہ نے گواہی دی وہ صحیح نہیں ہے ۔ اے ظالم تو کیوں استاد کا عاق بنتا ہے تجھے تو چاہیئے تھا کہ سب سے پہلے تو ہی مجھے قبول کرتا کیونکہ تو نے اپنے اس اشتہار میں بھی اپنے نام کے ساتھ یہ لفظ لکھتے ہیں ۔ " عبد الحق غزنوی تلمیذ حضرت مولانا مولوی عبد اللہ صاحب غزنوی‘ ۔ اے بے ادب تو نے اپنے اُستاد کو یہی صلہ دینا تھا کہ جس شخص کو وہ راستباز کہتا ہے تو نے اُس کو کذاب قرار دیا اور جبکہ تیری اس مخالفت کے رو سے عبد اللہ غزنوی مفتری ٹھہرا۔ اور اُس نے ناحق دروغ کے طور پر مجھے مظہر انوار الہی ٹھہرایا تو اب تجھے تو شرم سے مر جانا چاہیے کہ تو اُسی مفتری کا شاگرد ہے ۔ میں نہیں کہتا کہ مولوی عبد اللہ غزنوی مفتری تھا اور نہ میں اس کا نام کذاب اور دھو کہ باز رکھتا ہوں لیکن تو نے بلا شبہ اس کو مفتری بنا دیا ۔ خدا تجھ کو اس کی مکافات دے کہ ایسے عبد صالح کو تو نے عبد طالح قرار دیا کیونکہ جس حالت میں وہ مجھے صادق اور خدا تعالیٰ کی طرف سے سمجھتا ہے اور میں بقول تیرے مفتری اور کذاب اور دجال ہوں تو یہی نام عبد اللہ کو بھی تیری طرف سے تحفہ پہنچا مگر تیرے پر کوئی کیا افسوس کرے کیونکہ عبد اللہ تو عبد اللہ تو نے تو اُس کے مرشد کو بھی مفتری ٹھہرایا کیونکہ میاں صاحب کو ٹھہ والے جو مولوی عبد اللہ صاحب کے مرشد تھے قریب موت کے وصیت کر گئے تھے کہ پنجاب میں