تحفۂ غزنویہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 527 of 769

تحفۂ غزنویہ — Page 527

روحانی خزائن جلد ۱۵ ۵۲۷ تریاق القلوب بہت کچھ عام مسلمانوں کی طرف سے یہ فرقہ ایذا بھی پا رہا ہے لیکن چونکہ اہل عقل دیکھتے ہیں کہ خدا سے پوری صفائی اور اس کی مخلوق سے پوری ہمدردی اور حکام کی اطاعت میں پوری طیاری کی تعلیم اسی فرقہ میں دی جاتی ہے اس لئے وہ لوگ طبعا اس فرقہ کی طرف مائل ہوتے جاتے ہیں اور یہ خدا کا فضل ہے کہ بہت کچھ مخالفوں کی طرف سے کوششیں بھی ہوئیں کہ اس فرقہ کو کسی طرح نابود کر دیں مگر وہ سب کوششیں ضائع گئیں کیونکہ جو کام خدا کے ہاتھ سے اور آسمان سے ہو انسان اس کو ضایع نہیں کر سکتا۔ اور اس فرقہ کا نام مسلمان فرقہ احمدیہ اس لئے رکھا گیا کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دو نام تھے ایک محمد صلی اللہ علیہ وسلم ۔ دوسرا احمد صلی اللہ علیہ وسلم اور اسم محمد جلالی نام تھا اور اس میں یہ خفی پیشگوئی تھی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اُن دشمنوں کو تلوار کے ساتھ سزادیں گے جنہوں نے تلوار کے ساتھ اسلام پر حملہ کیا اور صد با مسلمانوں کو قتل کیا ۔ لیکن اسم احمد جمالی نام تھا جس سے یہ مطلب تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم دنیا میں آشتی اور صلح پھیلائیں گے ۔ سوخدا نے ان دو ناموں کی اس طرح پر تقسیم کی کہ اول آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مکہ کی زندگی میں اسم احمد کا ظہور تھا اور ہر طرح سے صبر اور شکیبائی کی تعلیم تھی ۔ اور پھر مدینہ کی زندگی میں اسم محمد کا ظہور ہوا اور مخالفوں کی سرکوبی خدا کی حکمت اور مصلحت نے ضروری سمجھی لیکن یہ پیشگوئی کی گئی تھی کہ آخری زمانہ میں پھر اسم احمد ظہور کرے گا اور ایسا شخص ظاہر ہوگا جس کے ذریعہ سے احمد کی صفات یعنی جمالی صفات ظہور میں آئیں گی اور تمام لڑائیوں کا خاتمہ ہو جائے گا ۔ پس اسی وجہ سے مناسب معلوم ہوا کہ اس فرقہ کا نام فرقہ احمد یہ رکھا جائے تا اس نام کو سنتے ہی ہر ایک شخص سمجھ لے کہ یہ فرقہ دنیا میں آشتی اور صلح پھیلانے آیا ہے اور جنگ اور لڑائی سے اس فرقہ کو کچھ سر و کا رنہیں ۔ سواے دوستو