تجلیاتِ الہٰیہ — Page 422
روحانی خزائن جلد ۲۰ ۴۱۸ قادیان کے آریہ اور ہم قادیان کے آریہ آریوں پر ہے صد ہزار افسوس دل میں آتا ہے بار بار افسوس ہو گئے حق کے سخت نافرمان کر دیا دیں کو قوم پر قربان وہ نشاں جن کی روشنی سے جہاں ہو کے بیدار ہو گیا لرزاں اُن نشانوں سے ہیں یہ انکاری پر کہاں تک چلے گی طراری اُن کے باطن میں اک اندھیرا ہے کین ونخوت نے آکے گھیرا ہے لڑ رہے ہیں خدائے یکتا سے باز آتے نہیں ہیں غوغا سے قوم کے خوف سے وہ مرتے ہیں سونشاں دیکھیں کب وہ ڈرتے ہیں موت لیکھو بڑی کرامت ہے پر سمجھتے نہیں یہ شامت ہے میرے مالک تو ان کو خود سمجھا پنڈت لیکھرام آسماں سے پھر اک نشان دکھلا (آمین) تازہ نشان کی پیشگوئی خدا فرماتا ہے کہ میں ایک تازہ نشان ظاہر کروں گا جس میں فتح عظیم ہوگی وہ عام دنیا کے لئے ایک نشان ہوگا اور خدا کے ہاتھوں سے اور آسمان سے ہوگا ۔ چاہیے کہ ہر ایک آنکھ اس کی منتظر رہے کیونکہ خدا اس کو عنقریب ظاہر کرے گا تا وہ یہ گواہی دے کہ یہ عاجز جس کو تمام قو میں گالیاں دے رہی ہیں اُس کی طرف سے ہے۔ مبارک وہ جو اس سے فائدہ اُٹھا دے۔ آمین المشتهر میرزا غلام احمد مسیح موعود