تذکرة الشہادتین

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 60 of 597

تذکرة الشہادتین — Page 60

۶۰ تذكرة الشهادتين روحانی خزائن جلد ۲۰ کیا پر نے ہم نے بیان کیا گیا ہے کیونکہ امیر کے ظلم کو پورے طور پر ظاہر کرنا کسی نے روا نہیں رکھا اور جو کچھ ہم نے لکھا ہے بہت سے خطوط کے مشترک مطلب سے ہم نے خلاصہ لکھا ہے۔ ہر ایک قصہ میں اکثر مبالغہ ہوتا ہے لیکن یہ قصہ ہے کہ لوگوں نے امیر سے ڈر کر اُس کا ظلم پورا پورا بیان نہیں کیا اور بہت سکی پردہ پوشی کرنی چاہی۔ شاہزادہ عبداللطیف کے لئے جو شہادت مقدر تھی وہ ہو چکی ۔ اب ظالم کا پاداش باقی ہے۔ إِنَّهُ مَنْ يَّاتِ رَبَّهُ مُجْرِمًا فَإِنَّ لَهُ جَهَنَّمَ لَا يَمُوتُ فِيهَا وَلَا يَحْيى افسوس کہ یہ امیر زیر آیت وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا داخل ہو گیا اور ایک ذرہ خدا تعالیٰ کا خوف نہ کیا۔ اور مومن بھی ایسا مومن کہ اگر کابل کی تمام سرزمین میں اُس کی نظیر تلاش کی جائے تو تلاش کرنا لا حاصل ہے۔ ایسے لوگ اکسیر احمر کے حکم میں ہیں جو صدق دل سے ایمان اور حق کے لئے جان بھی فدا کرتے ہیں اور زن و فرزند کی کچھ بھی پروا نہیں کرتے ۔ اے عبداللطیف تیرے پر ہزاروں رحمتیں کہ تو نے میری زندگی میں ہی اپنے صدق کا نمونہ دکھایا اور جو لوگ میری جماعت میں سے میری موت کے بعد رہیں گے میں نہیں جانتا کہ وہ کیا کام کریں گے۔ آں جواں مرد و حبیب کردگار جوہر خود کرد آخر آشکار نقد جان از بهر جاناں باخته دل ازیں فانی سرا پرداخته خطر هست این بیابان حیات صد ہزاراں اثر دہائش صد ہزاراں آتشے تا آسماں در جهات صد ہزاراں سیل خوں خوار و دماں صد ہزار صد ہزاراں فرسخے تا کوئے یار دشت پر خار و بلائش بنگر این شوخی ازاں شیخ عجم ایں بیاباں کرد طے از یک قدم این چنین باید خدا را بنده سر پئے دلدار خود افگندہ طه : ۷۵ النساء : ۹۴