تذکرة الشہادتین

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 221 of 597

تذکرة الشہادتین — Page 221

روحانی خزائن جلد ۲۰ ۲۱۹ لیکچر سیالکوٹ لیتے لیکن اب تم مجھے دیکھ نہیں سکتے۔ پھر ماسوائے اس کے اگر یہ بات صحیح ہے <mark><mark>کہ</mark></mark> آیت بَلْ رَّفَعَهُ اللهُ إِلَيْهِ اے کے یہی معنی ہیں <mark><mark>کہ</mark></mark> <mark><mark>حضرت</mark></mark> عیسی <mark><mark>آسمان</mark></mark> دوم کی طرف اُٹھائے گئے تو پھر پیش کرنا چاہیے <mark><mark>کہ</mark></mark> اصل متنازعہ فیہ امر کا فیصلہ کس آیت میں بتلایا گیا ہے۔ یہودی جواب تک زندہ اور موجود ہیں وہ تو <mark><mark>حضرت</mark></mark> <mark><mark>مسیح</mark></mark> کے رفع کے انہیں معنوں سے منکر ہیں <mark><mark>کہ</mark></mark> وہ نعوذ باللہ مومن اور صادق نہ تھے اور ان کی روح کا خدا کی طرف رفع نہیں ہوا اور شک ہو تو یہودیوں کے علماء سے جا کر پوچھ لو <mark><mark>کہ</mark></mark> وہ صلیبی موت سے یہ نتیجہ نہیں نکالتے <mark><mark>کہ</mark></mark> اس موت سے روح معہ <mark><mark>جس</mark></mark>م <mark><mark>آسمان</mark></mark> پر نہیں جاتی بل<mark><mark>کہ</mark></mark> وہ بالا تفاق یہ <mark><mark>کہ</mark></mark>تے ہیں <mark><mark>کہ</mark></mark> جو شخص صلیب کے ذریعہ سے مارا جائے وہ ملعون ہے ۔اس کا خدا کی طرف رفع نہیں ہوتا ۔ یہی وجہ ہے <mark><mark>کہ</mark></mark> خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں <mark><mark>حضرت</mark></mark> عیسی کی صلیبی موت سے انکار کیا اور فرمایا وَ مَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ وَلَكِنْ شُبِّهَ لَهُمْ اور صَلَبُوهُ کے ساتھ آیت میں قَتَلُوهُ کا لفظ بڑھا دیا ۔ تا اس بات پر دلالت کرے <mark><mark>کہ</mark></mark> صرف صلیب پر چڑھایا جانا موجب لعنت نہیں بل<mark><mark>کہ</mark></mark> شرط یہ ہے <mark><mark>کہ</mark></mark> صلیب پر چڑھایا بھی جائے اور بہ نیت قتل اس کی ٹانگیں بھی توڑی جائیں اور اس کو مارا بھی جائے تب وہ موت ملعون کی موت <mark><mark>کہ</mark></mark>لائے گی مگر خدا نے <mark><mark>حضرت</mark></mark> عیسی کو اس موت سے بچالیا۔ وہ صلیب پر چڑھائے گئے مگر صلیب کے ذریعہ سے ان کی موت نہیں ہوئی۔ ہاں یہود کے دلوں میں یہ شبہ ڈال دیا <mark><mark>کہ</mark></mark> گویا وہ صلیب پر مر گئے ہیں اور یہی دھو کا نصاریٰ کو بھی لگ گیا۔ ہاں انہوں نے خیال کیا <mark><mark>کہ</mark></mark> وہ مرنے کے ﴿۲۳﴾ بعد زندہ ہو گئے ہیں لیکن اصل بات صرف اتنی تھی <mark><mark>کہ</mark></mark> اس صلیب کے صدمہ سے بے ہوش ہو گئے تھے اور یہی معنی شُبّهَ لَهُمْ کے ہیں ۔ اس واقعہ پر مرہم عیسی کا نسخہ ایک عجیب شہادت ہے جو صد ہا سال سے عبرانیوں اور رومیوں اور یونانیوں اور اہل اسلام کی قرابادینوں میں النساء : ۱۵۹ ۲ النساء : ۱۵۸