سُرمہ چشم آریہ — Page 350
روحانی خزائن جلد ۲ ۳۳۶ شحنه حق اس غرض سے نکالوں کہ تا اگر کوئی آریہ ویدوں کو کچھ حقیقت سمجھتا ہو تو قرآنی صداقتوں سے اس کا مقابلہ کر کے دکھلاوے مگر سبحان اللہ کیا حکمت و قدرت الہی ہے کہ اس نے بعض بداندیشوں کو اس خیر محض کا سبب بنا دیا تا دنیا کی قرآنی شعاعوں سے منور کرے اور شیر طینتوں پر ان کی کور باطنی ظاہر کرے سو جس رسالہ کا نام میں نے عنوان میں لکھ دیا ہے یعنی قرآنی طاقتوں کا جلوہ گاہ یہ وہی مومنین کا دوست صادق ہے جس کے قدوم میمنت لزوم کا اصل موجب دشمن ہی ہوئے ورنہ خدائے کریم علیم ہے کہ اس سے پہلے میں جانتا بھی نہیں تھا کہ ایسے رسالہ ماہواری کے نکالنے کی خدمت بھی مجھ سے ظہور میں آئے گی۔ اب تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ جب ارادہ الہی اس بات کی طرف متعلق ہوا کہ کوئی ایسا رسالہ ماہواری نکالا جائے کہ جو قرآنی طاقتوں اور صداقتوں کو ہر یک مہینہ میں دکھلا کر ویدوں سے بھی ایسے ہی علوم و معارف کا مطالبہ کرے اور اس طور سے ویدوں کی ذاتی لیاقت کی کیفیت ہر ایک پر بخوبی کھول دے اور قرآن شریف کی عظمت اور وقعت ہر ایک منصف پر ظاہر کرے تو اس حکیم مطلق نے مصلحت عام کے لئے یہ تقریب قائم کی کہ بعض آریہ صاحبوں نے ایک اشتہار بصورت رسالہ بماہ فروری ۱۸۸۷ء چشمہ نور امرتسر میں چھپوایا اور اس میں بڑے زور سے انہیں امور کے لئے جو ہم اوپر بیان کر آئے ہیں تحریک کی ۔ معلوم ہوتا ہے کہ اس اشتہار کا راقم یا مہتم صرف پنڈت لیکھرام پیشاوری ہی نہیں ہے بلکہ اصل بانی مبانی اس کے آریہ صاحبوں کے کئی شریف اور فرشتہ خو اور راست گواسی قصبہ قادیان کے رہنے والے ہیں جن میں ایک کیسوں والا آریہ بھی ہے اور اصل املا ان کی اس رسالہ کا آرین تہذیب کے موافق ایک اور شیریں زبان پاکیزہ بیان آریہ نے درست کیا ہے جو شاید نابھہ کی ریاست میں نوکر ہے بہر حال یہ رسالہ آریوں کا ان لوگوں کی طرف سے ہے جنہوں نے بغرض مقابلہ وید و قرآن ایک ایسے رسالہ کی تالیف کے لئے ہم سے درخواست کی ہے جو قرآنی علوم اور حقائق کو بیان کرنے والا ہو اور درخواست بھی ان شستہ اور پر تہذیب الفاظ سے جس کا ہر یک حمد سہو کتابت معلوم ہوتا ہے دنیا کو “ہونا چاہیے۔(ناشر)