سُرمہ چشم آریہ — Page 344
روحانی خزائن جلد ۲ ۳۳۰ شحنه حق اس کا اجر پائیں گے ۔ اس وقت ہم کو آریوں کے ذاتی اعمال پر ہرگز بحث نہیں بلکہ صرف یہ دکھانا منظور ہے کہ کس قدر یہ لوگ جھوٹ سے پیار اور بیچ سے بغض کر رہے ہیں ۔ کوئی بھلا مانس ان میں سے خیال نہیں کرتا کہ اوّل ان ویدوں کا میں درشن تو کرلوں جن کی حمایت میں اس قدر مونہہ سے جھاگ نکل رہی ہے ہم سچ سچ کہتے ہیں کہ اگر آریوں کے لائق ممبر بطور نمونہ رگوید کا ہی اردو میں تحت اللفظ ترجمہ کرا کر ایک ایک نسخہ ان بے خبر آریوں کو دے دیں جو نا دیدہ اس پر عاشق ہو رہے ہیں تو سارا عشق ایک دم میں ٹھنڈا ہو جائے۔ اب ایک طرف تو یہ لوگ ان تر جموں کو نہیں دیکھتے جو بڑی کوشش اور محنت سے انگریزی اور اردو میں کئے گئے ہیں اور محض جہالت سے ایسا خیال کر رہے ہیں کہ یہ تمام تراجم افترا اور جعلسازیاں ہیں اور دوسری بقیه ہماری نسبت بدارا دے کر رہے ہیں ہمارے حاکم حقیقی کو ان کا علم پہلے ہی سے حاصل ہے حاشیه هم متعجب ہیں کہ ان کی ان تیزیوں کا کیا باعث ہے کیا رام سنگھ کے کوکوں کی روح تو ان میں کہیں گھس نہیں آئی۔ اے آریو ہمیں قتل سے تو مت ڈراؤ ہم ان نا کارہ دھمکیوں سے ہرگز ڈرنے والے نہیں جھوٹ کی بیخ کنی ہم ضرور کریں گے اور تمہارے ویدوں کی حقیقت ذرہ ذرہ کر کے کھول دیں گے۔ الانعام :١٦٣ نمی ترسیم از مردن چنین خوف از دل انگلندیم که ما مردیم زاں روزے کہ دل از غیر برکندیم دل و جاں درره آن داستان خود فدا کردیم اگر جاں ما ز ما خواہد بصد دل آرزو مندیم صبر و شکیب تو ہمارا شعار ہے مگر ناظرین سمجھ سکتے ہیں کہ دیا نندی فرقہ کی کس قدر خطر ناک پالیسی ہے اور لاجواب ہونے کی حالت میں کیا عمدہ تد بی سوچ رکھی ہے کہ قتل کی دھمکی دی جائے یوں تو کون شخص ہے کہ ایک دن نہیں مرے گا مگر یہ لوگ خیال نہیں کرتے کہ ایسی دھمکیاں ان لوگوں کے دلوں پر کیا کارگر ہو سکتی ہیں جن کو کتاب الہی نے پہلے ہی سے یہ تعلیم دے رکھی ہے قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِینَ یعنے مخالفین کو کہہ دے