سُرمہ چشم آریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 306 of 548

سُرمہ چشم آریہ — Page 306

روحانی خزائن جلد ۲ ۲۹۴ سرمه چشم آرید ۲۴۴ ہے تو اسے نئے سرے زندہ کرتا ہے یہ نہیں کہ ایک ہی بارش پر ہمیشہ کے لئے کفایت کرے۔ خیال کرنا چاہیے کہ یہ کیسی اعلیٰ درجہ کی صداقت ہے جو الہامات تازہ بتازہ کا کبھی دروازہ بند نہیں ہوتا لیکن وید کے رو سے تو کروڑ ہا برس ہوئے کہ وہ بند ہو گیا اور اب اس کے پرانے کاغذات پنڈتوں کے چر کیں اور پر آلائش بستوں میں دبے پڑے ہیں ۲۴۴ بقيه حاشیه علیہ وسلم ہیں اور باقی سب رسل و غیر رسل اس سے مراتب میں کم ہیں ہاں بعض طبائع خلقی طور پر حسب انداز ہ دائر و استعداد اپنے کے اس کمال کو پاتے ہیں ۔ مگر حقیقی و انتم و اکمل داشد و اجلی و اصلی و ارفع و اعلیٰ طور پر کمال مرتبہ ثالثہ اسی کو حاصل ہے اس سوال کے جواب میں ہم پہلے بھی کسی قدر تحریر کر آئے ہیں کہ وجدان صحیح اور دلائل معقولہ اس بات کو چاہتے ہیں کہ خدا تعالی جو واحد لاشریک ہے اور وحدت کو دوست رکھتا ہے وہ مصدر وحدت ہو یعنی اس کا طرز پیدائش متفرق اور پریشان طور پر نہ ہو بلکہ اس نے مخلوقات کے تمام افراد کو ایک احسن انتظام وحدت سے ظہور پذیر کیا ہو اور اسی پر ہمارا ذاتی مشاہدہ بھی شہادت دے رہا ہے جب ہم چھوٹے چھوٹے کیٹروں سے لے کر انسان تک نظر پہنچاتے ہیں یا ہم ایک ایسے آدمی سے جس کی علمی و عملی قوتیں نہایت ہی ضعیف یا پُر ظلمت ہیں ایک اعلیٰ درجہ کی فطرت پر نگاہ ڈالتے ہیں تو تمام سلسلہ مخلوقات کا ہمیں یوں نظر آتا ہے کہ گویا وہ ایک خط مستقیم عمودی ہے جس کی ایک طرف ارتفاع اور دوسری طرف انحصاض ہے۔ سو ہمیں اس خط پر نظر ڈالنے سے بنا چاری مانا پڑتا ہے کہ یہ سلسلہ مخلوقات ادنی مخلوق سے لے کر ایک اعلی مخلوق تک پہنچتا ہے اور ایسی عمدہ ترتیب سے یہ سلسلہ اوپر کو چڑھتا جاتا ہے کہ بعض حیوان درمیان میں ایسے آگئے ہیں کہ ان پر نظر ڈالنے سے معلوم