سُرمہ چشم آریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 303 of 548

سُرمہ چشم آریہ — Page 303

روحانی خزائن جلد ۲ ۲۹۱ سرمه چشم آرید یہ کس قدرسکھا شاہی ظلم ہے کہ اس عجیب العقل پر میشر نے تمام ہدایتوں کو وید میں محدود (۲۴۱) رکھ کر اور اپنے کلام اور الہام کو وید پر ختم کر کے پھر منہ کھول کر ان رشیوں کو یہ ہدایت نہ دی کہ دنیا میں میرے اور بندے بھی ہیں جن میں کوئی اور نبی میری طرف سے پیدا نہیں ہوسکتا کیونکہ خاص تم چاروں سے ہی ہمیشہ کے لئے میرا یارانہ ہے۔ سو تم ان ملکوں میں بقيه حاشیه ہوتے تھے ۔ پادری صاحبوں نے مدت تک اپنی کتابوں میں جو ہندوستان (۲۴۱ میں آکر اردو میں تالیف کیں اس انجیل کا کسی کتاب میں تذکرہ نہیں کیا اور مسلمانوں اور ہندوؤں میں سے ایسے لوگ بہت کم ہوں گے جن کو یہ معلوم ہو گا کہ عیسائیوں کے پاس ان چار انجیلوں کے علاوہ پانچویں انجیل بھی ہے جس کو پڑھ کر بڑے بڑے فاضل اور خدا ترس راہب مسلمان ہوتے رہے ہیں لیکن اب پادری صاحبوں نے اس قدر اپنے منہ سے اقرار کرنا شروع کر دیا ہے کہ محمد صاحب کا نام ہماری انجیل برنباس میں لکھا ہوا تو ضرور ہے مگر خیال کیا جاتا ہے کہ کسی مسلمان نے لکھ دیا ہو گا چنانچہ پادری ٹھاکر داس نے بھی اپنی اظہار عیسوی کے صفحہ ۳۳۲ میں کسی قدر عبارت انجیل برنباس کی جس میں نام آں حضرت صلی اللہ یعنی محمد رسول اللہ ایک پیش گوئی حضرت مسیح میں لکھا ہوا ہے نقل کر کے آخر میں یہی ناکارہ اور فضول عذر پیش کر دیا ہے کہ یہ یا تو کسی عیسائی کا اور یا کسی مسلمان کا جعل ہے لیکن اب تک عیسائی لوگ مسلمانوں کے ان سوالات کے مدیون ہیں کہ وہ جعل کس مسلمان نے کیا اور کب کیا اور کس کس کے روبرو کیا اور کیوں وہ جعلی کتابیں پوپوں کے متبرک کتب خانوں میں الہامی کتابوں کے ساتھ بعزت تمام تر رکھی گئیں اور کیوں پڑے بڑے راہب اور فاضل پادری ان کتابوں کو پڑھ کر اور فی الحقیقت