سُرمہ چشم آریہ — Page 275
روحانی خزائن جلد ۲ ۲۶۳ سرمه چشم آرید روحوں اور جسموں کو باہم جوڑا ہے۔ میں کہتا ہوں کہ ایسا نالائق پر میشر ہرگز جوڑ نے (۲۱۵) پر بھی قادر نہیں ہو سکتا اگر روحوں کی حقیقت کا اس کو پورا پورا علم ہوتا تو وہ بے شک ان کو بنا سکتا کیونکہ ایک چیز کا پورا پورا علم ہونا اس کے بنانے کو مستلزم ہے اور جب کہ وہ روحوں کے بنانے پر قادر نہیں تو اس سے صاف ثابت ہے کہ اس کو روحوں کے خواص اور باطنی قوتوں اور کیفیتوں کا پورا پورا علم بھی نہیں اور جبکہ علم کامل نہیں تو ایسے ادھورے اور ناقص علم سے وہ جوڑ نے جاڑنے پر کیونکر قادر ہوسکتا ہے اگر کوئی ثبوت ہے تو پیش کرنا چاہئے اور اگر بفرض محال یہ ثابت بھی ہو جائے کہ ایسا ادھورا اور نکما پر میشر ارواح اور اجسام کو جوڑ سکتا ہے تو البتہ ایک ناقص جیسی شکر گزاری کے لائق ٹھہرے گا جس کا عدم وجود برابر ہے۔ مگر یہ تو کبھی نہ ہوگا کہ ارواح جو بکلی آزاد اور غیر مخلوق اور قدیم ہونے میں اس کے ہمسر اور انا دی ہونے میں اس کے ہم پہلو اور واجب الوجود ہونے میں اس کے ہم رتبہ ہیں اس کو اپنا رب سمجھ لیں اور جو اپنے رب اور پیدا کنندہ کی پرستش اور عبادت کرنی چاہیے اس عالی شان عبادت کا اس کو مستحق ٹھہرا دیں سو یہی مطلب تھا جس کو ہم نے اعتراض میں لکھا اور آپ نے نہ اس کو غور کر کے سمجھا اور نہ اس کا کچھ جواب دیا۔ قوله ۔ سوائے اس کے خداوند کریم نہایت دیا لوکر پالو ہے اس کی یہ ہدایت کہ پرستش کرنی چاہیے انسان کی بہتری کے لئے ہے نہ کہ خود خدا کی اس میں کوئی عزت بڑھتی ہے۔ بقيه حاشیه عین ہو جاتا ہے اور اپنے نفس کو بلکلی درمیان سے اٹھا کر آئینہ صاف کا حکم پیدا ۲۵ ) کر لیتا ہے اور وہ آئینہ ذو جھتین ہونے کی وجہ سے ایک جہت سے صورت الہیہ بطورظلی حاصل کرتا ہے اور دوسری جہت سے وہ تمام فیض حسب استعداد و طبائع مختلفہ اپنے مقابلین کو پہنچاتا ہے اسی کی طرف اشارہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے