سُرمہ چشم آریہ — Page 180
روحانی خزائن جلد ۲ ۱۶۸ سرمه چشم آرید (۱۳۰) عالم اور فیاض مطلق ہو اور یہ امر ان کی مخلوقیت کو ثابت کرنے والا ہے۔ چهارم یہ بات بھی ایک ادنی غور کرنے سے ظاہر ہوتی ہے کہ ہماری روحیں اجمالی طور پر ان سب متفرق الہی حکمتوں اور صنعتوں پر مشتمل ہیں جو اجرام علوی وسفلی میں پائے جاتے ہیں۔ اسی وجہ سے دنیا باعتبار اپنے جزئیات مختلفہ کے عالم تفصیلی ہے اور انسان عالم اجمالی کہلاتا ہے یا یوں کہو کہ یہ عالم صغیر اور وہ عالم کبیر ہے پس جبکہ ایک جزئی عالم کے بوجہ پائے جانے پر حکمت کاموں کے ایک صانع حکیم کی صنعت کہلاتی ہے تو خیال کرنا چاہیے کہ وہ چیز کیونکر صنعت الہی نہ ہوگی جس کا وجود اپنے عجائبات ذاتی کے رو سے گویا تمام جزئیات عالم کی عکسی تصویر ہے اور ہر یک جزئی کے خواص عجیبہ اپنے اندر رکھتی ہے اور حکمت بالغہ ایزدی پر بوجہ اتم مشتمل ہے۔ ایسی چیز جو مظہر جمیع عجائبات صنعت الہی ہے مصنوع اور مخلوق ہونے سے باہر نہیں رہ سکتی بلکہ وہ سب چیزوں سے اول درجہ پر مصنوعیت کی مہر اپنے وجود پر رکھتی ہے اور سب سے زیادہ تر اور کامل تر صانع قدیم کے وجود پر دلالت کرتی ہے سواس دلیل سے روحوں کی مخلوقیت صرف نظری طور پر ثابت نہیں بلکہ در حقیقت اجلی بدیہات ہے۔ ماسوا اس کے دوسری چیزوں کو اپنی مخلوقیت کا علم نہیں مگر روحیں فطرتی طور پر اپنی مخلوقیت کا علم رکھتی ہیں ایک جنگلی آدمی کی روح بھی اس بات پر راضی نہیں ہو سکتی کہ وہ خود بخود ہے اسی کی طرف اشارہ ہے جو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اَلَستُ بِرَبِّكُمْ قَالُوا بَلَى یعنی روحوں سے میں نے سوال کیا کہ کیا میں تمہارا رب ( پیدا کنندہ) نہیں ہوں تو انہوں نے جواب دیا کہ کیوں نہیں یہ سوال و جواب حقیقت میں اس پیوند کی طرف اشارہ ہے جو مخلوق کو اپنے خالق سے قدرتی طور پر متحقق ہے جس کی شہادت روحوں کی فطرت میں نقش کی گئی ہے۔ پنجم جس طرح بیٹے میں باپ اور ماں کا کچھ کچھ حلیہ اور خو بو پائی جاتی ہے اسی طرح الاعراف : ۱۷۳