سُرمہ چشم آریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 110 of 548

سُرمہ چشم آریہ — Page 110

روحانی خزائن جلد ۲ ۹۸ سرمه چشم آرید میں سے بعض کو نا در طور پر کبھی کبھی کسی کسی زمانہ میں خاص خاص طاقتیں یا کسی اعلیٰ درجہ کی قو تیں عطا ہوتی ہیں جو عام طور پر دوسروں میں نہیں پائی جاتیں جیسے مشاہدہ سے ثابت ہوا ہے کہ بعض نے حال کے زمانہ میں تین سو برس سے زیادہ عمر پائی ہے جو بطور خارق عادت ہے اور بعض کی قوت حافظہ یا قوت نظر ایسے کمال درجہ کو پہنچی ہے جو اس کی نظیر نہیں پائی گئی اور اس قسم کے لوگ بہت نادر الوجود ہوتے ہیں جو صد ہایا ہزاروں برسوں کے بعد کوئی فردان میں سے ظہور میں آتا ہے اور چونکہ عوام الناس کی نظر اکثر امور کثیر الوقوع اور متواتر الظہور پر ہوا کرتی ہے اور یہ بھی ہوتا ہے کہ عام لوگوں کی نگاہ میں جو باتیں کثیر الوقوع اور متواتر الظہور ہوں وہ بطور قاعدہ یا قانون قدرت کے مانی جاتی ہیں اور انہیں کی سچائی پر انہیں اعتماد ہوتا ہے اس لئے دوسرے امور جو نادر الوقوع ہوتے ہیں وہ بمقابل امور کثیر الوقوع کے نہایت مضمحل اور مشتبہ بلکہ باطل کے رنگ میں دکھائی دیتے ہیں اسی وجہ سے عوام کیا بلکہ خواص کو بھی ان کے وجود میں شکوک اور شبہات پیدا ہو جاتے ہیں ۔ سو بڑی غلطی جو حکما کو پیش آتی ہے اور بڑی بھاری ٹھوکر جو ان کو آگے قدم رکھنے سے روکتی ہے یہ ہے کہ وہ امور کثیر الوقوع کے لحاظ سے نادر الوقوع کی تحقیق کے در پے نہیں ہوتے اور جو کچھ ان کے آثار چلے آتے ہیں ان کو صرف قصے اور کہانیاں خیال کر کے اپنے سر پر سے ٹال دیتے ہیں حالانکہ یہ قدیم سے عادت اللہ ہے جو امور کثیر الوقوع کے ساتھ نادر الوقوع عجائبات بھی بھی بھی ظہور میں آتے رہتے ہیں اس کی نظیریں بہت ہیں جن کا لکھنا موجب تطویل ہے اور حکیم بقراط نے اپنی ایک طبی کتاب میں چند چشم دید بیماروں کا بھی حال لکھا ہے۔ جو قواعد طبی اور تجر بہ اطباء کے رو سے وہ ہرگز قابل علاج نہیں تھے مگر ان بیماروں نے عجیب طور پر شفا پائی جس کی نسبت ان کا خیال ہے کہ یہ شفا بعض نادر تاثیرات ارضی یا سماوی سے ہے۔ اس جگہ ہم اس قد ر اور لکھنا چاہتے ہیں کہ یہ بات صرف نوع انسان میں محدود نہیں کہ کثیر الوقوع اور نادر الوقوع خواص کا اس میں سلسلہ چلا آتا ہے بلکہ اگر غور کر کے دیکھیں تو یہ دوہرا سلسلہ ہر یک نوع میں پایا جاتا ہے مثلاً نباتات میں سے آک کے درخت کو دیکھو کہ کیسا تلخ اور زہرناک