سُرمہ چشم آریہ — Page 108
روحانی خزائن جلد ۲ ۹۶ سرمه چشم آرید شروع ہو جائے گا تو یہ دھڑ کا اور اضطراب اس کم بخت کا اس کے نقصان عقل اور فہم پر صریح شہادت دیتا ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ اکثر سرمایہ اس کا ظن ہے کیونکہ کسی قطعی ثبوت میں انسان کبھی ترد نہیں کر سکتا مثلاً اگر کسی زندہ آدمی کو دس ہیں آدمی مل کر یہ کہیں کہ تو زندہ نہیں بلکہ مرا ہوا ہے تو اس قدر کیا وہ دس ہزار آدمی کی شہادت سے بھی اپنی زندگی سے شک میں نہیں پڑے گا بلکہ بے شمار اشخاص کا مجمع بھی اپنے حلفی گواہوں سے اس کو اضطراب میں نہیں ڈالے گا کیونکہ اس کو اپنی زندگی پر پورا پورا یقین ہے۔ یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ فلسفہ میں جو واقعی دانا ہیں وہ تجارب فلسفیہ پر بہت ہی کم یقین رکھتے ہیں کیونکہ ان کے معلومات وسیع ہیں اور ان کو اپنے فلسفہ کی اندرونی حقیقت معلوم ہے۔ علامہ شارح قانون جو طبیب حاذق اور بڑا بھاری فلسفی ہے ایک جگہ اپنی کتاب میں لکھتا ہے جو یونانیوں میں یہ قصے بہت مشہور ہیں جو بعض عورتوں کو جو اپنے وقت میں عفیفہ اور صالحہ تھیں بغیر صحبت مرد کے حمل ہو کر اولاد ہوئی ہے۔ پھر علامہ موصوف بطور رائے کے لکھتا ہے کہ یہ سب قصے افترا پر محمول نہیں ہو سکتے کیونکہ بغیر کسی اصل صحیح کے مختلف افراد اور مہذب قوموں میں ایسے دعاوی ہرگز فروغ نہیں پاسکتے ہیں اور نہ عورتوں کو حجرات ہو سکتی ہے کہ وہ زانیہ ہونے کی حالت میں اپنے حمل کی ایسی وجہ پیش کریں جس سے اور بھی ہنسی کرائیں اور ہمیں اس بات سے پر ہیز کرنا چاہیے کہ خواہ نخواہ ایسی تمام عورتوں پر زنا کا الزام لگائیں جو مختلف ملکوں اور قوموں اور زمانوں میں مستور الحال گزر چکی ہیں کیونکہ طبی قواعد کے رو سے ایسا ہونا ممکن ہے وجہ یہ کہ بعض عورتیں جو بہت ہی نادر الوجود ہیں باعث غلبہ رجولیت اس لائق ہوتی ہیں کہ ان کی منی دونوں طور قوت فاعلی و انفعالی رکھتی ہو اور کسی سخت تحریک خیال شہوت سے جنبش میں آکر خود بخود حمل ٹھہرنے کا موجب ہو جائے ۔ میں کہتا ہوں کہ ایسے قصے ہندوؤں میں بھی مشہور ہیں سورج بنسی اور چندر بنسی خاندان کی انہیں قصوں پر بنیاد پائی جاتی ہے۔