سچائی کا اظہار — Page 95
روحانی خزائن جلد ۶ ۹۳ جنگ مقدس دکھوں کے خدا ہی تھے یا ابن اللہ تھے اور در دہم نے اس لئے کہا کہ بھوک بھی ایک قسم درد کی ہے اور اگر زیادہ ہو جائے تو موت تک نوبت پہنچاتی ہے۔ دستخط بحروف انگریزی دستخط بحروف انگریزی غلام قا در فصیح پریزیڈنٹ از جانب اہل اسلام ہنری مارٹن کلارک پریزیڈنٹ از جانب عیسائی صاحبان جواب از طرف مسٹر عبداللہ ا نتظم صاحب مسیحی اگر یہ جناب کا قول صحیح ہے کہ ہر امر کی حقیقت تجربہ ہی پر مدار رکھتی ہے یعنی جو تجربہ کے برخلاف ہے وہ باطل ہے۔ تب تو ہم کو صفت خالقہ کا بھی انکار کرنا پڑے گا۔ کیونکہ ہمارے تجربہ (1) میں کوئی چیز خلق نہیں ہوتی اور آدم کا بغیر والدین پیدا ہونے کا بھی انکار کرنا پڑے گا اور ہم یہ نہیں جانتے کہ ایسا ہم کیوں کریں کیونکہ ناممکن مطلق ہم اس کو کہتے ہیں جو کوئی امرکسی صفت ربانی کے مخالف ہو اور یہ چیزیں جو ہمارے تجربہ کے باہر ہیں مثلاً خلقت کا ہونا یعنی بلا سامان کے عدم سے وجود میں آنا اور آدم کا بخلاف سلسلہ موجودہ کے پیدا ہونا ہم کسی صفت مقدسہ خدائے تعالیٰ کے مخالف نہیں دیکھتے۔ دوم۔ بجواب آپ کے دوسرے مقدمہ کے آپ کو یقین ہونا چاہئے کہ ہم اس شے مرئی کو جو کھانے پینے وغیرہ حاجتوں کے ساتھ ہے اللہ نہیں مانتے بلکہ مظہر اللہ کہتے ہیں اور یہ ایک ایسا مقدمہ ہے جیسا قرآن میں بابت اس آگ کے جو جھاڑی میں نظر آتی تھی لکھا ہے کہ اے موسیٰ اپنی نعلین دور کر کیونکہ یہ وادی طوئی ہے اور کہ میں تیرے باپ ابراہیم اور اسحاق اور یعقوب کا خدا ہوں موسیٰ نے اس کو تسلیم کیا ۔ اب فرمائیے شے مرئی تو خدا نہیں ہو سکتی اور رویت مر کی تھی پس ہم اس کو مظہر اللہ کہتے ہیں۔ اللہ نہیں کہتے۔ ویسے ہی یسوع مخلوق کو ہم اللہ نہیں کہتے بلکہ مظہر اللہ کہتے ہیں۔ کیا یہ ستون جو خشت و خاک کا سامنے نظر کے ہے اس میں سے اگر خدا آواز دے کر کہنا چاہے کہ میں تمہارا خدا ہوں اور میری فلاں بات سنو۔ تو گو تجربہ کے برخلاف یہ امر ہے۔ تو کیا