سچائی کا اظہار — Page 90
روحانی خزائن جلد ۶ ۸۸ جنگ مقدس تعلیم کی نسبت آپ بیان فرماتا ہے اور پھر آگے چل کر اس کا ثبوت بھی آپ ہی دے گا۔ لیکن چونکہ اب وقت تھوڑا ہے اس لئے وہ ثبوت جواب الجواب میں لکھا یا جاوے گا۔ بالفعل ڈپٹی عبداللہ آ تم صاحب کی خدمت میں یہ التماس ہے کہ بپا بندی ان امور کے جو ہم پہلے لکھ چکے ہیں۔ انجیل شریف کا دعوی بھی اسی طرز اور اسی شان کا پیش کریں کیونکہ ہر ایک منصف جانتا ہے کہ ایسا تو ہر گز ہو نہیں سکتا کہ مدعی ست اور گواہ چست ۔ خاص کر اللہ جل شانه جو قومی اور قادر اور نہایت درجہ کے علوم وسیع رکھتا ہے جس کتاب کو ہم اس کی طرف منسوب کریں وہ کتاب اپنی ذات کی آپ قیوم چاہیے۔ انسانی کمزوریوں سے بالکل مبرا اور منزہ چاہیے۔ کیونکہ اگر وہ کسی دوسرے کے سہارا کی اپنے دعویٰ میں اور اثبات دعوئی میں محتاج ہے تو وہ خدا کا کلام ہر گز نہیں ہو سکتا ۔ اور یہ مکر ریا در ہے کہ اس وقت صرف مدعا یہ ہے کہ جب قرآن کریم نے اپنی تعلیم کی جامعیت اور کاملیت کا دعویٰ کیا ہے۔ یہی دعوئی انجیل کا وہ حصہ بھی کرتا ہو جو حضرت مسیح علیہ السلام کی طرف منسوب کیا جاتا ہے اور کم سے کم اس قدر تو ہو کہ حضرت مسیح اپنی تعلیم کو مختتم قرار دیتے ہوں اور کسی آئندہ وقت پر انتظار میں نہ چھوڑتے ہوں۔ نوٹ یہ سوال اس قدرلکھا گیا تھا تو اس کے بعد فریق ثانی نے اس بات پر اصرار کیا کہ سوال نمبر ۲ بحث کے کسی دوسرے موقعہ میں پیش ہو۔ بالفعل الوہیت مسیح کے بارے میں سوال ہونا چاہیے چنانچہ ان کے اصرار کی وجہ سے یہ سوال جو ابھی غیر مختتم ہے اسی جگہ چھوڑا گیا بعد میں بقیہ اس کا شائع کیا جائے گا۔