سچائی کا اظہار — Page 72
روحانی خزائن جلد ۶ حجة الاسلام (۳۱) صحیح علیہ السلام صرف ایک بندہ، خدا تعالیٰ کا نبی اور مخلوقیت کی تمام کمزوریاں اپنے اندر رکھتا ہے تو پھر یہ عیسائی صاحبوں کا ظلم عظیم اور کفر کبیر ہے کہ ایک عاجز بندہ کو خدا بنا رہے ہیں اور اس حالت میں قرآن کے کلام اللہ ہونے میں اس سے بڑھ کر اور کوئی عمدہ دلیل نہیں کہ اس نے نابودشد و تو حید کو پھر قائم کیا اور جو اصلاح ایک سچی کتاب کو کرنی چاہیے تھی وہ کر دکھائی اور ایسے وقت میں آیا جس وقت میں اس کے آنے کی ضرورت تھی۔ یوں تو یہ مسئلہ بہت ہی صاف تھا کہ خدا کیا ہے اور اس کی صفات کیسی ہونی چاہیے مگر چونکہ اب عیسائی صاحبوں کو یہ مسئلہ سمجھ میں نہیں آتا اور معقولی و منقولی بحثوں نے اس ملک ہندوستان میں کچھ ایسا ان کو فائدہ نہیں بخشا اس لئے ضرور ہوا کہ اب طرز بحث بدل لی جائے سو میری دانست میں اس سے انسب طریق اور کوئی نہیں کہ ایک روحانی مقابلہ مباہلہ کے طور پر کیا جائے اور وہ یہ کہ اول سے اسی طرح ہر چھ دن تک مباحثہ ہو جس مباحثہ کو میرے دوست قبول کر چکے ہیں اور پھر ساتویں دن مباہلہ ہو اور فریقین مباہلہ میں یہ دعا کریں مثلاً فریق عیسائی یہ کہے کہ وہ عیسی مسیح ناصری جس پر میں ایمان لاتا ہوں وہی خدا ہے اور قرآن انسان کا افترا ہے خدا تعالی کی کتاب نہیں اور اگر میں اس بات میں سچا نہیں تو میرے پر ایک سال کے اندر کوئی ایسا عذاب نازل ہو جس سے میری رسوائی ظاہر ہو جائے اور ایسا ہی یہ عاجز دعا کرے گا کہ اے کامل اور بزرگ خدا میں جانتا ہوں کہ در حقیقت عیسی مسیح ناصری تیرا بندہ اور تیرا رسول ہے خدا ہرگز نہیں اور قرآن کریم تیری پاک کتاب اور محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تیرا پیارا اور برگزیدہ رسول ہے اور اگر میں اس بات میں سچا نہیں تو میرے پر ایک سال کے اندر کوئی ایسا عذاب نازل کر جس سے میری رسوائی ظاہر ہو جائے اور اے خدا میری رسوائی کے لئے یہ بات کافی ہوگی کہ ایک برس کے اندر تیری طرف سے میری تائید میں کوئی ایسا نشان ظاہر نہ ہو جس کے مقابلہ سے تمام مخالف عاجز رہیں اور واجب ہوگا کہ فریقین کے دستخط سے یہ تحریر چند اخبار میں شائع ہو جائے کہ جو شخص ایک سال کے اندر مورد غضب الہی ثابت ہو جائے اور یا یہ کہ ایک فریق کی تائید میں کچھ ایسے نشان آسمانی ظاہر ہوں کہ دوسرے فریق کی تائید میں ظاہر و ثابت نہ ہو سکیں تو ایسی صورت میں فریق مغلوب یا تو فریق غالب کا مذہب اختیار کرے اور یا اپنی کل جائیداد کا نصف حصہ اس مذہب کی تائید کے لئے فریق غالب کو دے دے جس کی سچائی ثابت ہو۔ مرزاغلام احمد از قادیان ضلع گورداسپور