ستارہ قیصرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 47 of 769

ستارہ قیصرہ — Page 47

روحانی خزائن جلد ۱۵ ۴۷ مسیح ہندوستان میں یہ عادت معلوم ہوتی ہے <mark>کہ</mark> وہ بات کا بتونگڑا بنا لیتے ہیں اور ایک ذرہ سی بات پر حاشیے چڑھاتے (۲۵) چڑھاتے ایک پہاڑ <mark>اس</mark> کو کر دیتے ہیں۔ مثلاً کسی انجیل نویس کے منہ سے نکل گیا <mark>کہ</mark> مسیح خدا کا بیٹا ہے۔ اب دوسرا انجیل نویس <mark>اس</mark> فکر میں پڑتا ہے <mark>کہ</mark> <mark>اس</mark> کو پورا خدا بنا دے اور تیسرا تمام زمین آسمان کے اختیار <mark>اس</mark> کو دیتا ہے اور چوتھا واشگاف <mark>کہ</mark> دیتا ہے <mark>کہ</mark> وہی ہے جو کچھ ہے اور کوئی دوسرا خدا نہیں ۔ غرض <mark>اس</mark> طرح پر کھینچے کھینچتے <mark>کہ</mark>یں کا <mark>کہ</mark>یں لے جاتے ہیں۔ <mark>دیکھو</mark> وہ رؤیا جس میں نظر آیا تھا <mark>کہ</mark> گویا مُردے قبروں میں سے اٹھ کر شہر میں چلے گئے۔ اب ظاہری معنوں پر زور دے کر یہ جتلایا گیا <mark>کہ</mark> حقیقت میں مُردے قبروں میں سے باہر نکل آئے تھے اور یروشلم شہر میں آکر اور لوگوں سے ملاقاتیں کی تھیں۔ <mark>اس</mark> جگہ غور کرو <mark>کہ</mark> کیسے ایک پر کا کوا بنایا گیا۔ پھر وہ ایک کوانہ رہا بل<mark>کہ</mark> لاکھوں کوے اڑائے گئے ۔ جس جگہ مبالغہ کا یہ حال ہو <mark>اس</mark> جگہ حقیقوں کا کیونکر پتہ لگے ۔ غور کے لائق ہے <mark>کہ</mark> ان انجیلوں میں جو خدا کی کتابیں <mark>کہ</mark>لاتی ہیں ایسے ایسے مبالغات بھی لکھے گئے <mark>کہ</mark> مسیح نے وہ کام کئے <mark>کہ</mark> اگر وہ سب کے سب لکھے جاتے تو وہ کتا بیں جن میں وہ لکھے جاتے دنیا میں سا نہ سکتیں ۔ کیا اتنا مبالغه طریق دیانت وامانت ہے۔ کیا یہ سچ نہیں ہے <mark>کہ</mark> اگر مسیح کے کام ایسے ہی غیر محدود اور حد بندی سے باہر تھے تو تین برس کی حد میں کیونکر آ گئے۔ ان انجیلوں میں یہ بھی خرابی ہے <mark>کہ</mark> بعض پہلی کتابوں کے حوالے غلط بھی دیتے ہیں۔ شجرہ نسب میسیج کو بھی صحیح <mark>طور</mark> پر لکھ نہ سکے۔ انجیلوں سے معلوم ہوتا ہے <mark>کہ</mark> ان بزرگوں کی عقل کچھ موٹی تھی یہاں تک <mark>کہ</mark> بعض حضرت مسیح کو بھوت سمجھ بیٹھے اور ان انجیلوں پر قدیم سے یہ بھی الزام چلا آتا ہے <mark>کہ</mark> وہ اپنی صحت پر باقی نہیں رہیں۔ اور خود جس حالت میں بہت سی اور بھی کتا بیں انجیل کے نام سے تالیف کی گئیں۔ تو ہمارے پ<mark>اس</mark> کوئی پختہ دلیل <mark>اس</mark> بات پر نہیں <mark>کہ</mark> کیوں ان دوسری کتابوں کے سب کے سب مضمون رد کئے جائیں اور کیوں ان انجیلوں کا کل لکھا ہوا مان لیا جائے۔ ہم خیال نہیں کر سکتے <mark>کہ</mark> کبھی دوسری انجیلوں میں <mark>اس</mark> قدر بے اصل مبالغات حمد یوحنا باب ۲۱ آیت ۱۵۔ (ناشر)