ستارہ قیصرہ — Page 102
روحانی خزائن جلد ۱۵ ۱۰۲ مسیح ہندوستان میں باب سوم میں یہ بیان ہے کہ بخت نصر نے جب بنی اسرائیل کو شام سے نکال دیا تو آصف اور افغان کی نسل کے چند قبائل عرب میں جاگزین ہوئے۔ اور عرب ان کو بنی اسرائیل اور بنی افغان کے ناموں سے نامزد کر تے تھے۔ اور اس کتاب کے صفحہ ۱۳۷ ۳۸ مصنف مجمع الانساب اور مستوفی مصنف تاریخ گزیدہ کے حوالہ سے تفصیلاً بیان کیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حین حیات میں خالد بن ولید نے ان افغانوں کی طرف دعوت اسلام کا پیغام بھیجا جو بخت نصر کے واقعہ کے بعد غور کے علاقہ ہی میں رو پڑے تھے ۔ افغان سردار بسر براہی قیس جو ۳۷ پشتوں کے بعد طالوت کی اولاد تھا حاضر خدمت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہوئے۔ قیس کا نام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرشید رکھا ۔ (اس جگہ عبد الرشید قیس کا شجرہ نسب طالوت (سال) تک دیا ہے ) ۔ نیز آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے سرداروں کا نام پٹھان رکھا جس کے معنی سگان جہاز کے ہیں۔ کچھ عرصہ کے بعد سردار واپس اپنے ملک میں آئے اور اسلام کی تبلیغ کی۔ اور اسی کتاب مخزن افغانی کے صفحہ ۶۳ میں لکھا ہے کہ بنی افغنہ یا بنی افغان ناموں کی نسبت فرید الدین احمد اپنی کتاب رسالہ انساب افغانیہ میں مفصلہ ذیل عبارت لکھتا ہے :بخت نصر مجوسی جب بنی اسرائیل اور شام کے علاقوں پر مستولی ہوا اور یروشلم کو تباہ کیا تو بنی اسرائیل کو قیدی اور غلام بنا کر جلا وطن کر دیا اور اس قوم کے کئی قبیلے جو موسوی شریعت کے پابند تھے اپنے ساتھ لے گیا اور حکم دیا کہ وہ آبائی مذہب چھوڑ کر خدا کی بجائے اس کی پرستش کریں۔ لیکن انہوں نے انکار کیا۔ بنابریں بخت نصر نے نہایت عاقل اور فہیم لوگوں میں سے دو ہزار کو مار ڈالا اور باقیوں کے لئے حکم دیا کہ اس کے مقبوضات اور شام سے کہیں باہر چلے جائیں ۔ ان کا ایک حصہ ایک سردار کے ماتحت بخت نصر کے مقبوضات سے نکل کر کوہستان