سرّالخلافة — Page 413
روحانی خزائن جلد ۸ ۴۱۳ سر الخلافة کہنا پڑا کہ میسی سچا مسیح نہیں ہے بلکہ ایک مکار اور ملحد ہے جو اپنے مطلب کے لئے ایک صریح پیشگوئی کو ظاہر سے پھیر کر روحانی نزول کا قائل ہے ۔ سو اس وجہ سے کروڑہا آدمی کا فراور منکر رہ کر داخل جہنم ہوئے۔ اے مسلمانوں اس مقام کو ذرا غور سے پڑھو کہ آپ لوگوں کی بات یہود کی بات سے ایسی مل گئی کہ دونوں باتیں ایک ہی ہو گئیں اور یقینا سمجھو کہ مومن کی خصلت میں داخل ہے کہ وہ دوسرے کے حال سے نصیحت پکڑتا ہے۔ فاعتبروا یا اولی الابصار واسئلوا اهل الذكر ان كنتم لا تعلمون اگر کہو کہ ہم کیونکر یقین کریں کہ یہ واقعہ صحیحہ ہے تو اس کا جواب یہی ہے کہ یہ مسئلہ دو قوموں کا متواترات سے ہے اور صرف یہ کہنا کہ وہ کتابیں محرف مبدل ہو گئیں ایسے متواترات کو کمزور نہیں کر سکتا۔ ہاں اس صورت میں ہو سکتا تھا کہ خدا تعالیٰ قرآن کریم میں اس قول کی تکذیب کرتا۔ پس جبکہ اس مسئلہ کی تکذیب حدیث اور قرآن سے ثابت نہیں ہوتی تو ہم متواترات قولی سے کسی طرح انکار نہیں کر سکتے بلکہ اگر یہ بھی فرض کر لیں کہ وہ تمام کتابیں خدا تعالیٰ کی طرف سے نازل ہی نہیں ہوئیں اور سراسر انسانی تالیف ہے۔ پھر بھی ہم تاریخی سلسلہ کو کسی طرح مٹا نہیں سکتے اور جو امر تاریخی طرز پر دو قوموں کے متفق علیہ شہادت سے ثابت ہو گیا اب وہ شکی اور ظنی نہیں ٹھہر سکتا جیسا کہ ہم وجود رام چندر اور کرشن اور بکرماجیت اور بدھ سے انکار نہیں کر سکتے حالانکہ ہم ان کتابوں کو خدائے تعالیٰ کی طرف سے نہیں سمجھتے۔ پھر کیوں انکار نہیں کر سکتے ؟ تاریخی تواتر کی وجہ سے۔ بعض نیم ملا عجیب جہالت کے گڑھے میں پڑے ہوئے ہیں۔ انہوں نے جو ایک تحریف کا لفظ سن رکھا ہے محل بے محل پر اسی کو پیش کر دیتے ہیں اور تاریخی تو اتر ات کو نظر انداز کر دیا۔ ہے۔ بلکہ ان کو مٹانا چاہتے ہیں۔ یہ نہایت شرمناک بات ہے کہ ہماری قوم میں ایسے لوگ بھی نوٹ: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا آنے والے مسیح کو اپنی امت میں سے قرارد بینا روحانی نزول کا مؤید ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مرادر وحانی نزول تھانہ اور کچھ۔ منه