سرّالخلافة — Page 316
روحانی خزائن جلد ۸ سر الخلافة نکتہ چینوں کے لئے ہدایت اور واقعی غلطی کی شناخت کے لئے ایک معیار اکثر جلد باز نکته چین خاص کر شیخ محمد حسین صاحب بٹالوی جو ہماری عربی کتابوں کو عیب گیری کی نیت سے دیکھتے ہیں باعث ظلمت تعصب کا تب کے سہو کو بھی غلطی کی مد میں ہی داخل کر دیتے ہیں لیکن در حقیقت ہماری صرفی یا نحوی غلطی صرف وہی ہوگی جس کے مخالف صحیح طور پر ہماری کتابوں کے کسی اور مقام میں نہ لکھا گیا ہو مگر جب کہ ایک مقام میں کسی اتفاق سے غلطی ہو اور وہی ترکیب یا لفظ دوسرے دیس البنین یا پچانش مقام میں صحیح طور پر پایا جا تا ہو تو اگر انصاف اور ایمان ہے تو اس کو سہو کا تب سمجھنا چاہیے نہ غلطی حالانکہ جس جلدی سے یہ کتابیں لکھی گئی ہیں اگر اس کو محوظ رکھیں تو اپنے ظلم عظیم کے قائل ہوں اور ان تالیفات کو خارق عادت سمجھیں۔ قرآن شریف کے سوا کسی بشر کا کلام سہو اور غلطی سے خالی نہیں ۔ بٹالوی صاحب خود قائل ہیں کہ لوگوں نے کلام امرء القیس اور حریری کی بھی غلطیاں نکالیں مگر کیا ایسا شخص جس نے اتفاقا ایک غلطی پکڑی حریری یا امرہ القیس کے مرتبہ پر شمار ہو سکتا ہے۔ ہر گز نہیں۔ نکتہ آوری مشکل ہے اور نکتہ چینی ایک ادنی استعداد کا آدمی بلکہ ایک نجی محض کر سکتا ہے۔ ہماری طرف سے حمامۃ البشری اور نور الحق کے بالمقابل رسالہ لکھنے کے لئے اخیر جون ۱۸۹۴ ء تک میعاد تھی وہ گذرگئی مگر کسی مولوی نے بالمقابل رسالہ لکھنے کی غرض سے انعام جمع کرانے کے لئے درخواست نہ بھیجی اور اب وہ وقت جا تا رہا ہاں انہوں نے نکتہ چینی کے لئے جو ہمیشہ نالائق اور حاسد طبع لوگوں کا شیوہ ہے بہت ہاتھ پیر مارے اور بعض خوش فہم آدمی چند سہو کا تب یا کوئی اتفاقی غلطی نکال کر انعام کے امیدوار ہوئے اور ذرہ آنکھ کھول کر یہ بھی نہ دیکھا کہ فی غلطی انعام دینے کے لئے یہ شرط ہے کہ ایسا شخص اول بالمقابل رسالہ لکھے ورنہ حاسد نکتہ چین جو اپنے ذاتی سرمایہ علمی کچھ بھی نہیں رکھتے دنیا میں ہزاروں بلکہ لاکھوں ہیں کس کس کو انعام دیا جائے ۔ چاہیے کہ اول مثلاً اس رسالہ سرالخلافہ کے مقابل پر رسالہ لکھیں اور پھر اگر ان کا رسالہ غلطیوں سے خالی نکلا اور ہمارے رسالہ کا بلاغت فصاحت میں ہم پلہ ثابت ہوا تو ہم سے علاوہ انعام بالمقابل رسالہ کے فی غلطی دور و پیڈ بھی لیں جس کے لئے ہم وعدہ کر چکے ہیں اور نہ یونہی نکتہ چینی کرنا حیا سے بعید ہوگا ۔ والسلام علی من اتبع الهدی خاکسار غلام احمد