سرّالخلافة

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 302 of 512

سرّالخلافة — Page 302

روحانی خزائن جلد ۸ ٣٠٢ اتمام الحجة ۲۳ اچھی طرح لکھ نہیں سکتے اور قرآن کریم اور احادیث سے بے خبر ہیں وہ صرف آبائی تقلید کی وجہ سے ہمارے ایسے مخالف ہو گئے ہیں کہ خدا جانے ہم نے ان کے کس باپ یا دادے کو قتل کر دیا ہے۔ ان لوگوں کا رات دن کا وظیفہ گالیاں اور ٹھٹھا اور تکفیر ہے گو یا کبھی مرنا نہیں۔ کبھی پوچھے جانا نہیں کہ تم نے کیوں مسلمانوں کو کافر کہا۔ خدا تعالیٰ سے لڑائی کر رہے ہیں ضد سے باز نہیں آتے ۔ مگر ضرور تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ پیشگوئی بھی پوری ہوتی کہ مہدی معہود یعنی وہی مسیح موعود جب ظہور کرے گا تو اس وقت کے مولوی اس پر فتوائے کفر لکھیں گے۔ اور پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ وہ لوگ فتویٰ لکھنے والے تمام دنیا کے شریروں سے بدتر ہوں گے اور روئے زمین پر ایسا کوئی بھی فاسق نہیں ہوگا جیسا کہ وہ اور ہرگز قبول نہیں کریں گے مگر نفاق سے۔ افسوس کہ ان سادہ لوحوں کو اتنی بھی سمجھ نہیں کہ جو شخص اللہ اور رسول کے قول کے مطابق کہتا ہے وہ کیونکر کا فر ہو جائے گا۔ کیا کوئی شخص اس بات کو قبول کر لے گا کہ وہ ہزار ہا اکابر اور اہل اللہ جو تیرہ سو برس تک یعنی ان دنوں تک حضرت عیسی کا فوت ہو جانا مانتے چلے آئے وہ سب کا فر ہی ہیں ۔ اور نعوذ باللہ امام مالک رضی اللہ عنہ بھی کافر ہیں جنہوں نے کروڑہا اپنے پیروؤں کو یہی تعلیم دی اور نعوذ باللہ امام بخاری بھی کافر جنہوں نے حضرت عیسی کی موت کے بارے میں اپنے صحیح میں ایک خاص باب باندھا۔ ابن قیم بھی کا فر جنہوں نے ان کو حضرت موسیٰ کی طرح موتی میں داخل کیا۔ اور ان بزرگوں کے مسلمان جاننے والے بھی سب کا فر ۔ اور معتزلہ تمام کا فرجن کا مذہب ہی یہی ہے کہ حضرت عیسی در حقیقت فوت ہو گئے ۔ اے بھلے مانس مولو یو کیا تمہیں ایک دن موت نہیں آئے گی جو شوخی اور چالا کی کی راہ سے سارے جہان کو کافر بنا دیا خدا تعالیٰ تو فرماتا ہے کہ جو تمہیں السلام علیکم کہے اس کو یہ مت کہو کہ لَسْتَ مُؤْمِنًا یعنی اس کو کا فرمت سمجھو وہ تو مسلمان ہے۔ لیکن تم نے ان کو کافر ٹھہرایا جو تمام ایمانی عقائد میں تمہارے شریک ہیں۔ اہل قبلہ ہیں اور شرک سے بیزار اور مدار نجات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی جانتے ہیں اور پیروی سے منہ پھیر نے والے