سرّالخلافة

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 300 of 512

سرّالخلافة — Page 300

روحانی خزائن جلد ۸ ۳۰۰ اتمام الحجة ہیں کہ اگر ہمارے دلائل حیات مسیح توڑ کر دکھلاویں تو ہم ہزار روپیہ دیں گے۔ اگر چہ دلائل کا حال تو معلوم ہے کہ مولوی صاحب موصوف نے ناحق چند ورق سیاہ کر کے ایک قدیم پردہ اپنا فاش کیا اور ایسی بے ہودہ باتیں لکھیں کہ بجز دو نام کے ہم تیسرا نام ان کا رکھ ہی نہیں سکتے ۔ یعنی یا تو وہ صرف دعاوی ہیں جن کو دلیل کہنا بیجا اور حمق ہے۔ اور یا یہودیوں کی طرح قرآن شریف کی تحریف ہے اس سے زیادہ کچھ نہیں ۔ اور معلوم ہوتا ہے کہ ان کے دل میں بھی یہ یقین جما ہوا ہے کہ میری کتاب میں کچھ نہیں اس لئے انہوں نے اس پردہ پوشی کے لئے آخر کتاب کے کہہ بھی دیا ہے کہ میری کتاب سمجھ میں نہیں آئے گی۔ جب تک کوئی سبقاً سبقا مجھ سے نہ پڑھے ۔ یہ کیوں کہا۔ صرف اس لئے کہ ان کو معلوم ۲۲ تھا کہ میری کتاب دلائل شافیہ سے محض خالی اور طبل تہی ہے۔ اور ضرور جاننے والے جان جائیں گے کہ اس میں کچھ نہیں۔ لہذا تعلیق بالمحال کی طرح انہوں نے یہ کہہ دیا کہ وہ دلائل جو میں نے لکھے ہیں ایسے پوشیدہ ہیں کہ وہ ہر ایک کو نظر نہیں آئیں گے اور صرف میری قدس کے نام سے مشہور ہے اور عجمی لوگ اس کو بیت المقدس کے نام سے بولتے ہیں مگر طرابلس اور قدس میں جو فاصلہ ہے میں تحقیقی طور پر اس کو بتلا نہیں سکتا کہ کس قدر ہے ہاں راہوں اور منزلوں کے لحاظ سے تقریباً معلوم ہے۔ اور طرابلس سے قدس کی طرف جانے کی کئی راہیں ہیں۔ ایک راہ یہ ہے کہ طرابلس سے بیروت کو جائیں اور طرابلس سے بیروت تک دو متوسط منزلیں ہیں۔ اور ہم لوگ منزل اس کو کہتے ہیں جو صبح سے عصر تک سفر کیا جائے اور پھر بیروت سے صیدا تک ایک منزل ہے اور صیدا سے حیفا تک ایک منزل اور حیفا سے عکا تک ایک منزل اور عکا سے سور تک ایک منزل اور بلا دشام کو سور یہ اسی نسبت کی وجہ سے کہتے ہیں یعنی اس بلد و قدیمہ کی طرف منسوب کر کے سوریہ نام رکھتے ہیں پھر سور سے یا فا تک ایک منزل کبیر ہے اور یافا بحر کے کنارے پر ہے اور یافا سے قدس تک ایک چھوٹی سی منزل ہے اور اب یا فا سے قدس تک ریل طیار ہو گئی ہے۔ اور اگر ایک مسافر یا فا سے قدس کی طرف سفر کرے تو ایک گھنٹہ سے پہلے پہنچ جاتا ہے۔ سو اس حساب سے طرابلس سے قدس تک نو دن کا سفر آرام کے ساتھ ہے مگر سمندر کا راہ نہایت قریب ہے۔ اور اگر انسان اگن بوٹ میں بیٹھ کر طرابلس سے قدس کو جانا چاہے تو یا فاتک صرف ایک دن اور رات میں پہنچ جائے گا اور یافا سے قدس تک صرف ایک گھنٹہ کے اندر ۔ والسلام۔ خدا آپ کو سلامت رکھے اور نگہبان اور مددگار ہو اور دشمنوں پر فتح بخشے ۔ آمین۔ منہ