سراجِ منیر — Page 14
روحانی خزائن جلد ۱۲ ۱۶ سراج منیر واضح رہے کہ اس شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سخت بے ادبیاں کی ہیں جن کے تصور سے بھی بدن کا نپتا ہے۔ اس کی کتابیں عجیب طور کی تحقیر اور تو ہین اور دشنام دہی سے بھری ہوئی ہیں کون مسلمان ہے جو ان کتابوں کو سنے اور اس کا دل اور جگر ٹکڑے ٹکڑے نہ ہو۔ با ایں ہمہ شوخی و خیرگی یہ شخص سخت جاہل ہے عربی سے ذرہ مس نہیں بلکہ دقیق اردو لکھنے کا بھی مادہ نہیں اور یہ پیشگوئی اتفاقی نہیں بلکہ اس عاجز نے خاص اسی مطلب کے لئے دعا کی جس کا یہ جواب ملا اور یہ پیشگوئی مسلمانوں کے لئے بھی نشان ہے کاش وہ حقیقت کو سمجھتے اور ان کے دل نرم ہوتے ۔ اب میں اسی خدائے عز و جل کے نام پر ختم کرتا ہوں جس کے نام سے شروع کیا تھا۔ والحمد لله والصلوة والسلام على رسوله محمد المصطفى افضل الرسل و خير الورى سيدنا و سيد كل ما في الارض والسما۔ خاکسار میرزا غلام احمد از قادیان ضلع گورداسپوره (۲۰ فروری ۱۸۹۳ء) چہارم ۔ جواب اعتراض مندرجہ ٹائٹل پیج برکات الدعامعہ خبر مندرجہ حاشیہ صفحہ ۴ ٹائٹل پیج ۔ نمونہ دعائے مستجاب انیس ہند میرٹھ اور ہماری پیشگوئی پر اعتراض اس اخبار کا پر چہ مطبوعہ ۲۵/ مارچ ۱۸۹۳ء جس میں میری اس پیشگوئی کی نسبت جو لیکھرام پشاوری کے بارے میں میں نے شائع کی تھی کچھ نکتہ چینی ہے مجھ کو ملا۔ مجھے معلوم ہوا ہے کہ بعض اور اخباروں پر بھی یہ کلمتہ الحق شاق گزرا ہے۔ اور حقیقت میں میرے لئے خوشی کا مقام ہے کہ یوں خود مخالفوں کے ہاتھوں اس کی شہرت اور اشاعت ہو رہی ہے سو میں اس وقت اس نکتہ چینی کے جواب میں صرف اس قدرلکھنا کافی سمجھتا ہوں کہ جس طور اور طریق سے خدا تعالیٰ نے چاہا اسی طور سے کیا میرا اس میں دخل نہیں ۔ ہاں یہ سوال کہ ایسی پیشگوئی مفید نہیں ہوگی اور اس میں شبہات باقی رہ جائیں گے اس اعتراض کی نسبت میں خوب سمجھتا ہوں کہ یہ پیش از وقت ہے۔ میں اس بات کا خود اقراری ہوں اور اب پھر اقرار کرتا ہوں کہ اگر جیسا کہ معترضوں نے خیال فرمایا ہے پیشگوئی کا ماحصل آخر کار