شحنۂِ حق — Page 449
روحانی خزائن جلد ۲ ۴۳۵ حاشیه متعلق صفحه ۳۶۸ شحنه حق شحنه حق دیا نندی فریبوں کا ایک بڑا نمونہ یہ ہے کہ اس نے ہندوؤں کو مسلمانوں پر بدظن کرنے کے لئے اپنی ستیارتھ پر کاش میں سراسر جعل سازی سے جو اس کی رگ رگ میں بھری ہوئی تھی لکھ مارا کہ ہندوؤں کا نام جو آریوں پر اطلاق کیا جاتا ہے دراصل یہ فارسی لفظ ہے جس کے معنے چور ہیں مسلمانوں نے تحقیر کے طور سے آریوں کا نام چور رکھا ہے سو ہندو کہلانے سے پر ہیز کرنا چاہیے اس پر فتنہ تحریر سے دیانند کا اصل مطلب یہ تھا کہ ایک طرف تو ہندولوگ مسلمانوں سے ناراض ہو جائیں گے۔ دوسری طرف آریہ سماج کی بھی ترقی ہوگی کیونکہ آریہ کہلانے سے عوام کو یہ دھوکا لگ جائے گا کہ دیا نندی مذہب جلد جلد پھیلتا جاتا ہے جب ستیارتھ پر کاش میں یہ مضمون شائع ہوا تو شاید ۱۸۸۱ ء یا وی ۱۸ ء تھا کہ ہم نے پرچہ اخبار وکیل ہند امرتسر میں ایک ایسا کامل رو اس کا چھپوایا جس کے ساتھ ایک صدی وار نقشہ بھی شامل تھا اور ہم نے ثابت کر دیا تھا کہ اسلام کے وجود سے ایک مدت پہلے ہی لفظ ہندو کا قدیم سے اس قوم پر اطلاق کیا جاتا ہے ہمیں یاد ہے کہ اس مضمون میں سبعہ معلقہ کا ایک شعر بھی ہم نے لکھا تھا جو اسلام کے شائع ہونے سے ایک مدت پہلے کا ہے اور وہ یہ ہے وظلم ذوى القُربى اشد مضاضة على المرء من وقع الحسام المهند اس کے معنے یہ ہیں کہ خویشوں کا ظلم ہندی تلوار سے بڑھ کر ہے۔ پھر اس کے بعد ایک پنڈت نے بھی اس دیا نندی دعوی کا کھنڈن لکھا اور ہندو کے لفظ کا اشتقاق بیا کرن کے رو سے سنسکرت کے مادہ سے ہی ثابت کیا۔ شاید اس ہندو کا نام ہمیش چند تھا پھر سب کے بعد پادری ٹامس ہاول نے وہ مضمون لکھا جس کو اب ہم ہدیہ ناظرین کر کے آریہ صاحبوں سے استفسار کرتے ہیں کہ پادری صاحب کے اس مضمون کو پڑھ کر ہمیں اطلاع دیں کہ اب بھی پنڈت دیا نند کا فریب ثابت ہے یا نہیں کیونکہ ۳۱ اس صاف ثبوت کے ملنے کے بعد دیا نند ان دو الزاموں میں سے ایک الزام کے نیچے ضرور آئے گا یا تو اسے فریبی کہنا پڑے گا جس نے تفرقہ ڈالنے کے لئے ناحق یہ جعل سازی کی اور یا اس کا نام جاہل مطلق رکھنا پڑے گا جو ایسے صاف اور بدیہی اور مشہور امر سے ناواقف رہا۔ سواب ہم معلوم کرنا چاہتے ہیں کہ آریہ صاحبان ان دونوں ناموں میں سے کس نام کو اپنے دیا نند کے لئے پسند کرتے ہیں ۔ آیا اس کو فریبی کہا جائے یا جاہل۔ اب وہ مضمون جس کو ہم نے پر چہ مطبوعہ نرنجن پر کاش امرتسر سے نقل کیا ہے۔ بجنس ذیل میں درج کیا جاتا ہے۔