شحنۂِ حق

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 396 of 548

شحنۂِ حق — Page 396

ر ادامه روحانی خزائن جلد ۲ ۳۸۲ شحنه حق نمبر نام آرید کس الہام یا کشف کا گواہ ہے۔ وہی آریہ کسی دکھ کی مار سے اپنی تنبیہ نازل کر۔ اور واضح رہے کہ ملا وامل نے اپنے خط ۱۴۔ اگست ۱۸۸۵ء میں جو میر عباس علی صاحب کی طرف اس نے لکھا تھا جو ہمارے پاس موجود ہے ان دونوں پیشگوئیوں کی سچائی کا اقرار بھی کر لیا ہے۔ لالہ شرمیت لالہ شرمیت رائے کا بھائی کسی فوجداری مقدمہ میں ماخوذ ہوگیا رائے کھتری تھا۔ چیف کورٹ میں اپیل تھا لالہ شرمیت نے دعا کے لئے کہا ساکن قادیان چنانچہ کئی دفعہ دعا کی گئی آخر قبولیت دعا ہو کر عالم الغیب کی طرف سے ظاہر کیا گیا کہ مثل چیف کورٹ سے دوبارہ تفتیش کے لئے واپس آئے گی اور پھر چھوڑ دیا جائے گا۔ پر اس کا دوسرا برہمن رفیق جس کا نام خوشحال ہے رہائی نہیں پائے گا جب تک پوری پوری قید بھگت نہ لے سو یہ خبر قبل از ظہور عین خوف وخطر کے وقت میں لالہ شرمیت کو بتلائی گئی اور پھر جب پوری ہوئی تو بذریعہ تحریر اس کو یاد دلایا گیا تو اس نے جواب لکھ کر بھیجا کہ اس لئے یہ انجام آپ پر کھولا گیا کہ آپ نیک بخت ہیں۔ دوسری دلیپ سنگھ کی نسبت پیش از وقوع اس کو بتلایا گیا کہ مجھے کشفی طور پر معلوم ہوا ہے کہ پنجاب کا آنا اس کے لئے مقدر نہیں یا تو یہ مرے گا اور یا ذلت اور بے عزتی اٹھائے گا۔ اور اپنے مطلب سے ناکام رہے گا۔ تیسری پنڈت دیانند کی بابت اس کی موت سے دو مہینے پہلے لالہ شرمیت کو اطلاع دی گئی کہ اب وہ بہت ہی نزدیک مرے گا بلکہ کشفی حالت میں میں نے اس کو مردہ پایا۔ چوتھی ایک اپنے زمینداری مقدمہ کی نسبت جو شر کاء کے ساتھ دائر تھا اور کئی سال مختلف عدالتوں میں ہوکر چیف کورٹ تک پہنچا مجھے دعا کرنے کے بعد یہ الہام