شحنۂِ حق — Page 351
روحانی خزائن جلد ۲ ۳۳۷ شحنه حق لفظ ان کی شرافت ذاتی اور طہارت باطنی اور حق گوئی پر دلالت کر رہا ہے ۔ چنانچہ وہ فرماتے ہیں کہ اول تو مرزا کو اس کام کا ارادہ ہی وہم و خیال ہے کیونکہ وہ ہندوؤں کے ساتھ بحث مباحثہ کا نام لینے کے بھی لائق نہیں کتب مذہبی سے بے بہرہ محض ہے حتی کہ حرف شناسی سے بھی محروم مطلق ہے پھر اگر شرمے شرمائے اس کام کو شروع کرے گا تو آخر نیچا دیکھے گا۔ صرف آیات قرآنی سے اپنا مدعا ثابت کر کے دکھلاوے ورنہ ہم خوب بنائیں گے۔ قرآن سے ہرگز کوئی بات علم کی برآمد نہیں ہوگی اور جہلاء عرب کو علم سے کام ہی کیا تھا ۔ اور تمام جہان میں جو علم ظاہر ہوا وہ ویدا قدس کی بدولت ہے۔ مرزا کو ہم علانیہ متنبہ کرتے ہیں کہ بے شک وہ رسالہ موعودہ تیار کرے اگر کرے گا تو نیچا دیکھے گا ۔ ہم خوب بنا ئیں گے ہم مرزا سے کوئی شرط نہیں کرتے کیونکہ اس کا مال حرام ہمارے کس کام ہے وہ دغا و فریب سے جمع کیا گیا ہے اور مرزا چاروں طرف سے قرضدار ہے اور کوڑی کوڑی سے لاچار اور جائداد بھی سب فروخت ہوگئی ۔ مرزا کے دل پر جہالت کا پردہ ہے اور نیز وہ بڑا مفلس ہے زمین بھی بک گئی دیکھو قر ضداری اور ناداری کے ثبوت میں اس کے دو خط ہیں جو کسی ہندو کے نام لکھے تھے کھیوٹ بند و بست کے حصہ کشی سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے کہ اس کی فقط سات گھما نو زمین ہے ۔ بڑا فریبی ہے ۔ قرآن قرآن لئے پھرتا ہے۔ قرآن سے تو یہ بھی ثابت نہیں ہوتا کہ خدا جسم و جسمانی نہیں مرزا تو کیا چیز کوئی محمدی عالم بھی ثابت نہیں کر سکتا جس فٹ نوٹ یہ لفظ اس شخص نے ہمارے سید و مولی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت استعمال کیا ہے اور ایسی بے ادبی کے الفاظ اور بھی بہت سے ہیں جو ہم نے لکھنے چھوڑ دیئے ہیں ۔ منہ