شہادة القرآن

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 393 of 502

شہادة القرآن — Page 393

حاشیہ ۳۹۱ شهادة القرآن روحانی خزائن جلد ۶ یاد کیا ہے۔ ان کی آخری دعا ان کے اشتہار مطبوعہ ریاض ہند پریس امرتسر میں جس کی ہیں ہزار کا پی چھپوا کر ہند فون کے اور انگلینڈ میں انہوں نے شائع کرنی چاہی ہے یہ کلمات دعائیہ مرقوم ہیں ۔ انگریز جن کی شائستہ اور مہذب اور اس ملک میں آنا بدل و جان پسند کرتے ہیں۔ جس صفائی سے اس سلطنت کے ظل حمایت میں مسلمانوں کی اصلاح کے لئے اور ان کی بدعات مخلوط دور کرنے کے لئے وعظ ہو سکتا ہے اور جن تقریبات سے علماء اسلام کو تر و پیچ دین کے لئے اس گورنمنٹ میں جوش پیدا ہوتے ہیں اور فکر اور نظر سے اعلیٰ درجہ کا کام پڑتا ہے اور عمیق تحقیقاتوں سے تائید دین متین میں تالیفات ہو کر حجت اسلام مخالفین پر پوری کی جاتی ہے وہ میری دانست میں آج کل کسی اور ملک میں ممکن نہیں ۔ یہی سلطنت ہے جس کی عادلانہ حمایت سے علماء کو مدتوں کے بعد گویا صد ہا سال کے بعد یہ موقعہ ملا کہ بے دھڑک بدعات کی آلودگیوں اور شرک کی خرابیوں سے اور مخلوق پرستی کے فسادوں سے نادان لوگوں کو مطلع کریں اور اپنے رسول مقبول کا صراط مستقیم کھول کر بتلا دیں۔ کیا ایسی سلطنت کی بدخواہی جس کے زیر سایہ تمام مسلمان امن اور آزادی سے بسر کرتے ہیں اور فرائض دین کو کما حقہ بجالاتے ہیں اور ترویج دین میں سب ملکوں سے زیادہ مشغول ہیں جائز ہو سکتی ہے حاشا و کلا ہرگز جائز نہیں اور نہ کوئی نیک اور دیندار آدمی ایسا بد خیال دل میں لا سکتا ہے۔ ہم سچ سچ کہتے ہیں کہ دنیا میں آج یہی ایک سلطنت ہے جس کے سایہ عاطفت میں بعض بعض اسلامی مقاصد ایسے حاصل ہوتے ہیں کہ جو دوسرے ممالک میں ہرگز ممکن الحصول نہیں ۔ شیعوں کے ملک میں جاؤ تو وہ سنت جماعت کے وعظوں سے افروختہ ہوتے ہیں اورسنت جماعت کے ملکوں میں شیعہ اپنی رائے ظاہر کرنے سے خائف ہیں۔ ایسا ہی مقلدین موحدین کے شہروں میں اور موحدین مقلدین کے بلاد میں دم نہیں مار سکتے ۔ اور گوکسی بدعت کو اپنی آنکھ سے دیکھ لیں منہ سے بات نکالنے کا موقعہ نہیں رکھتے آخر یہی سلطنت ہے جس کی پناہ میں ہر ایک فرقہ امن اور آرام سے اپنی رائے ظاہر کرتا ہے اور یہ بات اہل حق کے لئے نہایت ہی مفید ہے کیونکہ جس ملک میں بات کرنے کی گنجائش ہی نہیں نصیحت دینے کا حوصلہ ہی نہیں اس ملک میں کیونکر راستی پھیل سکتی ہے۔ راستی پھیلانے کے لئے وہی ملک مناسب ہے جس میں آزادی سے اہل حق وعظ کر سکتے ہیں۔ یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ دینی جہادوں سے اصلی غرض آزادی کا قائم